Arabic (Original)
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا يَذْكُرُ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَهَا فَقَالَ "ِ : (إذ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا ) انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِيزٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ " . ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ النِّسَاءَ فَقَالَ " إِلاَمَ يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ " . قَالَ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ فَقَالَ " إِلاَمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
English Translation
Abdullah bin Zam’ah said:“One day, I heard the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) while he was mentioning the she-camel and the one who killed her. He said: ‘When their most wicked went forth.’ A strong and mighty man who was invincible among his tribe, like Zam’ah, went forth for her.’ Then I heard him mentioning the women, so he said: ‘One of you should not lash his wife as a slave is lashed, for perhaps he will lay with her at the end of the day.’” He said: “Then he advised against laughing when passing gas, he said: ‘One of you should not laugh at what he himself does.’”
Urdu Translation
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دن اس اونٹنی کا ( مراد صالح علیہ السلام کی اونٹنی ) اور جس شخص نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت «إذ انبعث أشقاها» تلاوت کی، اس کام کے لیے ایک «شرِّ» سخت دل طاقتور، قبیلے کا قوی و مضبوط شخص اٹھا، مضبوط و قوی ایسا جیسے زمعہ کے باپ ہیں، پھر میں نے آپ کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے اور جب کہ اسے توقع ہوتی ہے کہ وہ اس دن کے آخری حصہ میں ( یعنی رات میں ) اس کے پہلو میں سوئے بھی“، انہوں نے کہا: پھر آپ نے کسی کے ہوا خارج ہو جانے پر ان کے ہنسنے پر انہیں نصیحت کی، آپ نے فرمایا: ”آخر تم میں کا کوئی کیوں ہنستا ( و مذاق اڑاتا ) ہے جب کہ وہ خود بھی وہی کام کرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
