Arabic (Original)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، هَذَا مَا عَرَضْنَا عَلَى هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُنْزِلَ : ( عبَسَ وَتَوَلَّى ) فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْشِدْنِي وَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الآخَرِ وَيَقُولُ أَتَرَى بِمَا أَقُولُ بَأْسًا فَيُقَالُ لاَ . فَفِي هَذَا أُنْزِلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أُنْزِلََ : ( عبَسَ وَتَوَلَّى ) فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ . وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ .
English Translation
Hadrat Aishah narrated:“He frowned and turned away” was revealed about Ibn Umm Maktum the blind man. He came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: ‘O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Guide me.’ At that time, there was a revered man from the idolaters with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) turned away from him and faced the other man, saying: ‘Do you think that there is something wrong with what I am saying?’ He said: ‘No.’ So it was about that it was revealed.”
Urdu Translation
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ «عبس وتولى» والی سورۃ ( عبداللہ ) ابن ام مکتوم نابینا کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آ کر کہنے لگے: اللہ کے رسول! مجھے وعظ و نصیحت فرمائیے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مشرکین کے اکابرین میں سے کوئی بڑا شخص موجود تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان سے اعراض کرنے لگے اور دوسرے ( مشرک ) کی طرف توجہ فرماتے رہے اور اس سے کہتے رہے میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں اس میں تم کچھ حرج اور نقصان پا رہے ہو؟ وہ کہتا نہیں، اسی سلسلے میں یہ آیتیں نازل کی گئیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ عروہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں «عبس وتولى» ابن ام مکتوم کے حق میں اتری ہے اور اس کی سند میں حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر نہیں کیا۔
