Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، رضى الله عنه أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ : (لئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ) قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَحَلَفَ مَا قَالَهُ فَلاَمَنِي قَوْمِي وَقَالُوا مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذِهِ فَأَتَيْتُ الْبَيْتَ وَنِمْتُ كَئِيبًا حَزِينًا فَأَتَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَتَيْتُهُ فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ " . قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُُ : ( هم الَّذِينَ يَقُولُونَ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
English Translation
Hadrat Al-Hakam bin Utaibah (may Allah be well pleased with him) said:“I heard Muhammad bin Ka’b Al-Qurazi – forty years ago – narrating from Hadrat Zaid bin Arqam [may Allah be well pleased with him] that during the battle of Tabuk, Abdullah bin Ubayy said: “If we return to Al-Madinah, indeed the more honorable will expel therefrom the meaner.” He said: ‘So I went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned that to him, but he (Hadrat Abdullah) took an oath that he did not say it. My people blamed me for that, they said: “What did you expect to accomplish from this?’ So I went to my house and slept full of grief. Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came to me’ or ‘I went to him, and he said: “Indeed Allah has verified the truth of what you said.” He said: ‘So this Ayah was revealed: there are the ones who say: “Do not spend on those who are with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) until they desert from him.”
Urdu Translation
حکم بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی کو چالیس سال سے زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے سن رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والے لوگ ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال باہر کریں گے، وہ کہتے ہیں: میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا، اور آپ کو یہ بات بتا دی ( جب اس سے بازپرس ہوئی ) تو وہ قسم کھا گیا کہ اس نے تو ایسی کوئی بات کہی ہی نہیں ہے، میری قوم نے مجھے ملامت کی، لوگوں نے کہا: تجھے اس طرح کی ( جھوٹ ) بات کہنے سے کیا ملا؟ میں گھر آ گیا، رنج و غم میں ڈوبا ہوا لیٹ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے یا میں آپ کے پاس پہنچا ( راوی کو شک ہو گیا ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا یا وہ کہا ) آپ نے فرمایا: ”اللہ نے تجھے سچا ٹھہرایا ہے یہ آیت نازل ہوئی ہے: «هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا» ”وہی لوگ تھے جو کہتے تھے ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں“ ( المنافقون: ۷ ) ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
