Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُؤَمِّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَعْمِلْهُ عَلَى قَوْمِهِ . فَقَالَ عُمَرُ لاَ تَسْتَعْمِلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَتَكَلَّمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِي . فَقَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ) فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا تَكَلَّمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُسْمِعْ كَلاَمَهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ . قَالَ وَمَا ذَكَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ جَدَّهُ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ مُرْسَلٌ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ .
English Translation
It is narrated by Hadrat 'Abdullah bin Az-Zubair that "Al-Aqra' bin Habis arrived to meet the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)" - he said - "so Hadrat Abu Bakr submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Appoint him over his people.' 'Umar said: 'Do not appoint him O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!' They continued talking before the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) until they raised their voices. Hadrat Abu Bakr said to 'Umar: 'You only wanted to contradict me.' So ['Umar] said: 'I did not want to contradict you.'" He said: "So this Ayah was revealed: 'O you who believe! Do not raise your voices above the voice of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) (49:2).'" He said: "After that, when 'Umar spoke before the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), his speech could not be heard until he told him he could not understand him." He (one of the narrators) said: "And Ibn Az-Zubair did not mention his grandfather" meaning Hadrat Abu Bakr
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اقرع بن حابس نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں ان کی اپنی قوم پر عامل بنا دیجئیے، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں عامل نہ بنائیے، ان دونوں حضرات نے آپ کی موجودگی میں آپس میں توتو میں میں کی، ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، حضرت ابوبکر نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا: آپ کو تو بس ہماری مخالفت ہی کرنی ہے، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي» ”رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو“ ( الحجرات: ۲ ) ، اس واقعہ کے بعد عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرتے تو اتنے دھیرے بولتے کہ بات سنائی نہیں پڑتی، سامع کو ان سے پوچھنا پڑ جاتا، راوی کہتے ہیں: ابن حضرت زبیر نے اپنے نانا یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو ابن ابی ملیکہ سے مرسل طریقہ سے روایت کیا ہے اور اس میں عبداللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔
