It is narrated by Hadrat Musa (upon him be peace) bin Talhah that Abu Al-Yasar said: "A woman came to me selling dates. I said to her: 'There are better dates than these in the house.' So she entered the house with me. I had an urge for her so I began kissing her. I went to Hadrat Abu Bakr and mentioned that to him, so he said: 'Cover what you have done, repent, do not inform any one, and never do it again.' So I went to 'Umar and mentioned that to him. He said: 'Cover what you have done, repent, do not inform any one, and never do it again.' Then I went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned it to him." He said: 'Is this how you take care of the wife of someone who is away fighting in Allah's cause?" Such that he had wished he had not accepted Islam until that very time, and he thought that he must be one of the people of the Fire." He said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) bowed his head for a long time, until Allah revealed to him: And perform the Salat, at the two ends of the day and in some hours of the night. Verily, the good deeds remove the evil deeds. That is a reminder for the mindful (11:114). Abu Al-Yasar said: "So I went to him and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) recited it for me. A companion of his submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Is this specific, or is it for the people in general?" He said: "Rather it is for the people in general
Urdu Translation
حضرت ابوالیسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس کھجور خریدنے آئی، میں نے اس سے کہا: ( یہ کھجور جو یہاں موجود ہے جسے تم دیکھ رہی ہو ) اس سے اچھی اور عمدہ کھجور گھر میں رکھی ہے۔ چنانچہ وہ بھی میرے ساتھ ساتھ گھر میں آ گئی، میں اس کی طرف مائل ہو گیا اور اس کو چوم لیا، تب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آ کر ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: اپنے نفس ( کی اس غلطی ) پر پردہ ڈال دو، توبہ کرو دوسرے کسی اور سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرو، لیکن مجھ سے صبر نہ ہو سکا چنانچہ میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور ان سے بھی اس ( واقعہ ) کا ذکر کیا، انہوں نے بھی کہا: اپنے نفس کی پردہ پوشی کرو، توبہ کرو اور کسی دوسرے کو یہ واقعہ نہ بتاؤ۔ ( مگر میرا جی نہ مانا ) میں اس بات پر قائم نہ رہا، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بھی یہ بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم نے ایک غازی کی بیوی کے ساتھ جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا ہے اس کی غیر موجودگی میں ایسی حرکت کی ہے؟“ آپ کی اتنی بات کہنے سے مجھے اتنی غیرت آئی کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوتا بلکہ اب لاتا اسے خیال ہوا کہ وہ تو جہنم والوں میں سے ہو گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ( سوچ میں ) کافی دیر تک سر جھکائے رہے یہاں تک کہ آپ پر بذریعہ وحی آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل» سے «ذكرى للذاكرين» تک نازل ہوئی۔ ابوالیسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ( جب ) میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ ( بشارت ) ان کے لیے خاص ہے یا سبھی لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سبھی لوگوں کے لیے عام ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قیس بن ربیع کو وکیع وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، ۳- شریک نے حضرت عثمان بن عبداللہ سے یہ حدیث قیس بن ربیع کی روایت کی طرح روایت کی ہے، ۴- اس باب میں حضرت ابوامامہ اور واثلہ بن اسقع اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
It is narrated by Hadrat Musa (upon him be peace) bin Talhah that Abu Al-Yasar said: "A woman came to me selling dates. I said to her: 'There are better dates than these in the house.' So she entered the house with me. I had an urge for her so I began kissing her. I went to Hadrat Abu Bakr and mentioned that to him, so he said: 'Cover what you have done, repent, do not inform any one, and never do it again.' So I went to 'Umar and mentioned that to him. He said: 'Cover what you have done, repent, do not inform any one, and never do it again.' Then I went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned it to him." He said: 'Is this how you take care of the wife of someone who is away fighting in Allah's cause?" Such that he had wished he had not accepted Islam until that very time, and he thought that he must be one of the people of the Fire." He said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) bowed his head for a long time, until Allah revealed to him: And perform the Salat, at the two ends of the day and in some hours of the night. Verily, the good deeds remove the evil deeds. That is a reminder for the mindful (11:114). Abu Al-Yasar said: "So I went to him and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) recited it for me. A companion of his submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Is this specific, or is it for the people in general?" He said: "Rather it is for the people in general
حضرت ابوالیسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس کھجور خریدنے آئی، میں نے اس سے کہا: ( یہ کھجور جو یہاں موجود ہے جسے تم دیکھ رہی ہو ) اس سے اچھی اور عمدہ کھجور گھر میں رکھی ہے۔ چنانچہ وہ بھی میرے ساتھ ساتھ گھر میں آ گئی، میں اس کی طرف مائل ہو گیا اور اس کو چوم لیا، تب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آ کر ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: اپنے نفس ( کی اس غلطی ) پر پردہ ڈال دو، توبہ کرو دوسرے کسی اور سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرو، لیکن مجھ سے صبر نہ ہو سکا چنانچہ میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور ان سے بھی اس ( واقعہ ) کا ذکر کیا، انہوں نے بھی کہا: اپنے نفس کی پردہ پوشی کرو، توبہ کرو اور کسی دوسرے کو یہ واقعہ نہ بتاؤ۔ ( مگر میرا جی نہ مانا ) میں اس بات پر قائم نہ رہا، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بھی یہ بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم نے ایک غازی کی بیوی کے ساتھ جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا ہے اس کی غیر موجودگی میں ایسی حرکت کی ہے؟“ آپ کی اتنی بات کہنے سے مجھے اتنی غیرت آئی کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوتا بلکہ اب لاتا اسے خیال ہوا کہ وہ تو جہنم والوں میں سے ہو گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ( سوچ میں ) کافی دیر تک سر جھکائے رہے یہاں تک کہ آپ پر بذریعہ وحی آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل» سے «ذكرى للذاكرين» تک نازل ہوئی۔ ابوالیسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ( جب ) میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ ( بشارت ) ان کے لیے خاص ہے یا سبھی لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سبھی لوگوں کے لیے عام ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قیس بن ربیع کو وکیع وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، ۳- شریک نے حضرت عثمان بن عبداللہ سے یہ حدیث قیس بن ربیع کی روایت کی طرح روایت کی ہے، ۴- اس باب میں حضرت ابوامامہ اور واثلہ بن اسقع اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔