Arabic (Original)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَى مَالِكٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى وَلَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْحَرْفَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ . وَإِنَّمَا ذَكَرَهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثِقَةٌ حَافِظٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمَضْمَضَةُ وَالاِسْتِنْشَاقُ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ يُجْزِئُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ تَفْرِيقُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْنَا . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ إِنْ جَمَعَهُمَا فِي كَفٍّ وَاحِدٍ فَهُوَ جَائِزٌ وَإِنْ فَرَّقَهُمَا فَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا .
English Translation
Hadrat Abdullah bin Zaid (may Allah be well pleased with him) said: "1 saw the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) rinse his mouth and sniff water in his nose using one hand, he did that thrice
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار آپ نے ایسا کیا ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- اس باب میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۳- مالک، سفیان، ابن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث عمرو بن یحییٰ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، اسے صرف خالد ہی نے ذکر کیا ہے اور خالد محدثین کے نزدیک ثقہ اور حافظ ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا کافی ہو گا، اور بعض نے کہا ہے کہ دونوں کے لیے الگ الگ پانی لینا ہمیں زیادہ پسند ہے، شافعی کہتے ہیں کہ اگر ان دونوں کو ایک ہی چلو میں جمع کرے تو جائز ہے لیکن اگر الگ الگ چلّو سے کرے تو یہ ہمیں زیادہ پسند ہے ۲؎۔
