Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ عَالِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمَّارٍ الْحُسَيْنَ بْنَ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْفُضَيْلَ بْنَ عِيَاضٍ يَقُولُ عَالِمٌ عَامِلٌ مُعَلِّمٌ يُدْعَى كَبِيرًا فِي مَلَكُوتِ السَّمَوَاتِ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Abu Umamah Al-Bahili that "Two men were mentioned before the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). One of them a worshiper, and the other a scholar. So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'The superiority of the scholar over the worshiper is like my superiority over the least of you.' Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Indeed Allah, His Angels, the inhabitants of the heavens and the earths - even the ant in his hole, even the fish - say Salat upon the one who teaches the people to do good
Urdu Translation
حضرت ابوامامہ باہلی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ہے“، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- فضیل بن عیاض کہتے ہیں «ملكوت السموات» ( عالم بالا ) میں عمل کرنے والے عالم اور معلم کو بہت بڑی اہمیت و شخصیت کا مالک سمجھا اور پکارا جاتا ہے۔
