Arabic (Original)
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَرِيرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَجَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعُرْوَةُ هُوَ ابْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيُّ وَيُقَالُ هُوَ عُرْوَةُ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الْجِهَادَ مَعَ كُلِّ إِمَامٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
English Translation
Hadrat Urwah Al-Bariqi (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: reward and spoils of war.' Abu Isa said: In this chapter there are also narrations from Hadrat Ibn Umar, Hadrat Abu Sa'id, Hadrat Jarir, Hadrat Abu Hurairah, Hadrat Asma bint Yazid, Hadrat Al-Mughirah bin Shu'bah, and Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with them). Abu Isa said: This is a Hasan Sahih Hadith. Urwah is Ibn Abi Al-Ja'd Al-Bariqi, and it is also said he is Urwah bin Al-Ja'd. Ahmad bin Hanbal said: The jurisprudence of this hadith is that Jihad is to be carried out with every leader until the Day of Resurrection.
Urdu Translation
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب کسی لشکر پر امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اپنے نفس کے بارے میں سے اللہ سے ڈرنے اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتے تھے، اس کے بعد آپ فرماتے: اللہ کے نام سے اور اس کے راستے میں جہاد کرو، ان لوگوں سے جو اللہ کا انکار کرنے والے ہیں، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، عہد نہ توڑو، مثلہ نہ کرو، بچوں کو قتل نہ کرو اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے سامنے جاؤ تو ان کو تین میں سے کسی ایک بات کی دعوت دو ان میں سے جسے وہ مان لیں قبول کر لو اور ان کے ساتھ لڑائی سے باز رہو: ان کو اسلام لانے اور اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت دو، اور ان کو بتا دو کہ اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو ان کے لیے وہی حقوق ہیں جو مہاجرین کے لیے ہیں اور ان کے اوپر وہی ذمہ داریاں ہیں جو مہاجرین پر ہیں، اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو ان کو بتا دو کہ وہ بدوی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان کے اوپر وہی احکام جاری ہوں گے جو بدوی مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں: مال غنیمت اور فئی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں، پھر اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کریں تو ان پر فتح یاب ہونے کے لیے اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے جہاد شروع کر دو، جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ دو تو تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ نہ دو، بلکہ تم اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دو، ( اس کے خلاف نہ کرنا ) اس لیے کہ اگر تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا عہد توڑتے ہو تو یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑو، اور جب تم کسی قلعے والے کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے فیصلہ پر اتارو تو ان کو اللہ کے فیصلہ پر مت اتارو بلکہ اپنے فیصلہ پر اتارو، اس لیے کہ تم نہیں جانتے کہ ان کے سلسلے میں اللہ کے فیصلہ پر پہنچ سکو گے یا نہیں“، آپ نے اسی طرح کچھ اور بھی فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے۔
