Arabic (Original)
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ، بَزًّا مِنْ هَجَرَ فَجَاءَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ وَعِنْدِي وَزَّانٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْوَزَّانِ " زِنْ وَأَرْجِحْ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سُوَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ الرُّجْحَانَ فِي الْوَزْنِ . وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سِمَاكٍ فَقَالَ عَنْ أَبِي صَفْوَانَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Suwaid bin Qais that "Makhrafah Al-'Abdi and I brought linens from Hajar. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came to us in bargain with us with some pants. There was someone with me who weighed (the goods) to determine the value. So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to the one weighing: 'Weigh and add more.'" [He said:] There are narrations on this topic from Hadrat Jabir and Hadrat Abu Hurairah. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Suwaid is a Hasan Sahih Hadith. The people of knowledge consider it recommended to add more when weighing. Shu'bah reported this Hadith from Simak, so he said: "From Abu Safwan" and he mentioned the narration
Urdu Translation
حضرت سوید بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور مخرمہ عبدی دونوں مقام ہجر سے ایک کپڑا لے آئے، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے ہم سے ایک پائجامے کا مول بھاؤ کیا۔ میرے پاس ایک تولنے ولا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تولنے والے سے فرمایا: ”جھکا کر تول“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- سوید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم جھکا کر تولنے کو مستحب سمجھتے ہیں، ۳- اس باب میں حضرت جابر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو سماک سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے «عن سوید بن قیس» کی جگہ «عن ابی صفوان» کہا ہے پھر آگے حدیث ذکر کی ہے۔
