Arabic (Original)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّاسُ وَالرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ مَا شَاءَ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَهِيَ امْرَأَتُهُ إِذَا ارْتَجَعَهَا وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ وَإِنْ طَلَّقَهَا مِائَةَ مَرَّةٍ أَوْ أَكْثَرَ حَتَّى قَالَ رَجُلٌ لاِمْرَأَتِهِ وَاللَّهِ لاَ أُطَلِّقُكِ فَتَبِينِي مِنِّي وَلاَ آوِيكِ أَبَدًا . قَالَتْ وَكَيْفَ ذَاكَ قَالَ أُطَلِّقُكِ فَكُلَّمَا هَمَّتْ عِدَّتُكِ أَنْ تَنْقَضِيَ رَاجَعْتُكِ . فَذَهَبَتِ الْمَرْأَةُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَسَكَتَتْ عَائِشَةُ حَتَّى جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْهُ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ : ( الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ) قَالَتْ عَائِشَةُ فَاسْتَأْنَفَ النَّاسُ الطَّلاَقَ مُسْتَقْبَلاً مَنْ كَانَ طَلَّقَ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ طَلَّقَ . حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ شَبِيبٍ .
English Translation
Hisham bin Urwah narrated from his father, from Hadrat Aishah that she said: "The people were such that a man would divorce his wife when he wanted to divorce her, and she remained his wife when he wanted to take her back while she was in her Iddah, and he could divorce a hundred times, or even more, such that a man could say to his wife: 'By Allah! I will neither divorce you irrevocably, nor give you residence ever!' She would say: 'And how is that?' He would say: 'I will divorce you, and whenever your Iddah is just about to end I will take you back. So a woman went to Hadrat Aishah to inform her about that, and Hadrat Aishah was silent until the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came. So she told him and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was silent, until the Qur'an was revealed: Divorce is two times, after that, retain her on reasonable terms or release her with kindness.'" So Hadrat Aishah said: "So the people could carry on with divorce in the future, (knowing) who was divorced, and who was not divorced
Urdu Translation
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگوں کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنی بیوی کو جتنی طلاقیں دینی چاہتا دے دینا رجوع کر لینے کی صورت میں وہ اس کی بیوی بنی رہتی، اگرچہ اس نے سویا اس سے زائد بار اسے طلاق دی ہو، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہ طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو جائے اور نہ تجھے کبھی پناہ ہی دوں گا۔ اس نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس نے کہا: میں تجھے طلاق دوں گا پھر جب عدت پوری ہونے کو ہو گی تو رجعت کر لوں گا۔ اس عورت نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خاموش رہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آئے تو حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کو اس کی خبر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بھی خاموش رہے یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا «الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان» ”طلاق ( رجعی ) دو ہیں، پھر یا تو معروف اور بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا بھلائی سے رخصت کر دینا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۹ ) ۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: تو لوگوں نے طلاق کو آئندہ نئے سرے سے شمار کرنا شروع کیا، جس نے طلاق دے رکھی تھی اس نے بھی، اور جس نے نہیں دی تھی اس نے بھی۔
