Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلاَّمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ أَتَى أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَكُونُ فِي الْفَلاَةِ فَتَكُونُ مِنْهُ الرُّوَيْحَةُ وَيَكُونُ فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلاَ تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ لاَ أَعْرِفُ لِعَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ الْوَاحِدِ وَلاَ أَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ السُّحَيْمِيِّ . وَكَأَنَّهُ رَأَى أَنَّ هَذَا رَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
English Translation
Hadrat Ali bin Talq narrated that a Bedouin came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said:“O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! A man among us would be in the desert and a small smell would come from him, (what should he do) while the water is scarce? So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: “When one of you breaks wind then let him perform Wudu, and do not go into your women in their behinds for indeed Allah is not shy of the truth.”
Urdu Translation
حضرت علی بن طلق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! ہم میں ایک شخص صحرا ( بیابان ) میں ہوتا ہے، اور اس کو ہوا خارج ہو جاتی ہے ( اور وضو ٹوٹ جاتا ہے ) اور پانی کی قلت بھی ہوتی ہے ( تو وہ کیا کرے؟ ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی کی جب ہوا خارج ہو جائے تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے، اور عورتوں کی دبر میں صحبت نہ کرو، اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- علی بن طلق کی حدیث حسن ہے، ۲- اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سوائے اس ایک حدیث کے علی بن طلق کی کوئی اور حدیث مجھے نہیں معلوم، جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہو، اور طلق بن علی سحیمی کی روایت سے میں یہ حدیث نہیں جانتا۔ گویا ان کی رائے یہ ہے کہ یہ صحابہ میں سے کوئی اور آدمی ہیں، ۳- اس باب میں عمر، خزیمہ بن ثابت، حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
