Arabic (Original)
599 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أبنا أَبُو سَعِيدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبَّادٍ ذُو النُّونِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ التَّمَّارُ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ الْأَعْمَشِ فَقِيلَ: إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عُمَارَةَ وَلِيَ الْمَظَالِمَ، فَقَالَ الْأَعْمَشُ: يَا عَجَبًا مِنْ ظَالِمٍ وَلِيَ الْمَظَالِمَ، مَا لِلْحَائِكِ مِنَ الْحَائِكِ وَالْمَظَالِمِ؟، فَخَرَجْتُ فَأَتَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُمَارَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: عَلَيَّ بِمِنْدِيلٍ وَأَثْوَابٍ فَوَجَّهَ بِهَا إِلَيْهِ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ بَكَّرْتُ إِلَى الْأَعْمَشِ فَقُلْتُ: أُجْرِي الْحَدِيثَ قَبْلَ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ يَعْنِي: فَأَجْرَيْتُ ذِكْرَهُ، فَقَالَ: بَخٍ بَخٍ، هَذَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ زَانَ الْعَمَلَ وَمَا زَانَهُ، فَقُلْتُ: بِالْأَمْسِ قُلْتَ مَا قُلْتَ، وَالْيَوْمُ تَقُولُ هَذَا، فَقَالَ: دَعْ هَذَا عَنْكَ، حَدَّثَنِي خَيْثَمَةُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أَحْسَنَ إَلَيْهَا، وَعَلَى بُغْضِ مَنْ أَسَاءَ إِلَيْهَا»
English Translation
It is a natural disposition that the heart inclines toward the one who does good to it and turns away from the one who does evil to it.
Urdu Translation
محمد بن عبدالرحمن قریشی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں اعمش رحمہ اللہ کے ہاں موجود تھا کہ کسی نے ان سے کہا: حسن بن عمارہ (حاکم) ظلم کرتا ہے تو انہوں نے کہا: حیرت کی بات ہے کہ ایک ظالم شخص ظلم کے کاموں پر مامور ہے، متکبر اور ظالم سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ محمد بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں حسن بن عمارہ کے ہاں گیا تو اس بات کا ان سے تذکرہ کر دیا انہوں نے رومال اور کچھ کپڑے منگوا کر ایک آدمی کے ذریعے اعمش کے ہاں (بطور تحفہ) بھیجوا دیے، اگلے دن میں اعمش کے پاس ذرا جلدی چلا گیا، میں نے سوچا کہ لوگوں کے آنے سے پہلے پہلے میں اپنی بات کر لوں، میں نے دوبارہ حسن بن عمارہ کا ذکر چھیڑ دیا، تو اعمش بولے: واہ، واہ، حسن بن عمارہ کے تو کیا کہنے؟ وہ کیسے اچھے اچھے کام کرتا ہے۔ تو میں نے عرض کیا: یہ وہی تو ہے جس کے متعلق کل آپ نے کیا کہا تھا؟ اور آج آپ اس کی مدح سرائی کر رہے ہیں، یہ کیا؟ تو فرمایا: تم ان باتوں کو چھوڑو، مجھ سے خیثمہ رحمہ اللہ نے بروایت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ فطری امر ہے کہ جو آدمی اچھا سلوک کرے، دل اس کی طرف میلان رکھتا ہے اور جو آدمی بدسلوکی کرے، دل اس سے نفرت کرتا ہے۔“[مسند الشهاب/حدیث: 599]
