Arabic (Original)
1480 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، نا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، نا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ حُصَيْنٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، عَبْدُ الْمُطَّلِبِ خَيْرٌ لِقَوْمِهِ، كَانَ يُطْعِمُ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ، وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ إِنَّ حَصِينًا قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ؟ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَعْزِمَ لِي عَلَى رُشْدِ أَمْرِي»، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ حَصِينًا أَسْلَمَ بَعْدُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ سَأَلْتُكَ الْمَرَّةَ الْأُولَى، أَلَا وَأَقُولُ لَكَ مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ؟ قَالَ: «قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا عَلِمْتُ»
English Translation
Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with them both) narrated that Husayn came to the Prophet (peace be upon him) before accepting Islam and said: Muhammad, Abd al-Muttalib was better for his people—he used to feed them liver and hump meat, while you have them slaughtered completely. The Messenger of Allah (peace be upon him) gave him whatever answer Allah willed. Then Husayn said: Muhammad... (and he narrated the lengthy hadith).
Urdu Translation
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حصین اسلام قبول کرنے سے پہلے نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! عبدالمطلب اپنی قوم کے لیے بہتر تھا وہ (جانوروں کی) کلیجی اور کوہان کا گوشت کھلایا کرتا تھا جبکہ آپ تو ان (جانوروں) کو مکمل ذبح کر دیتے ہیں۔ تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے جو اللہ نے چاہا جواب دیا۔ پھر حصین کہنے لگا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ مجھے کیا پڑھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:”اے اللہ! بے شک میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں اس بات کا تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے میرے بھلائی کے کام پر پختگی عطا فرما دے۔“کہتے ہیں: پھر اس کے بعد حصین اسلام لے آیا تو نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: بے شک میں نے پہلی مرتبہ بھی آپ سے سوال کیا تھا اور اب بھی آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ مجھے کیا پڑھنے کا حکم فرماتے ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: تم یہ کہو:”اے اللہ! میرے وہ گناہ معاف فرما جو میں نے چھپ کر کیے اور جو علانیہ کیے، جو غلطی سے کیے اور جو جان بوجھ کر کیے، جو لاعلمی میں کیے اور جو جانتے بوجھتے ہوئے کیے۔“[مسند الشهاب/حدیث: 1480]
