Arabic (Original)
1337 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ الْمَعَافِرِيُّ، أبنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ فَهْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُطَرِّفٍ الْبَسْتِيُّ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الْوَرَّاقُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْبَزَّازُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ مَنْظُورٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ خُطَبٌ لَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا: «شَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَشَرُّ الْعَمَى عَمَى الْقَلْبِ، وَشَرُّ الْمَعْذِرَةِ حِينَ يَحْضُرُ الْمَوْتُ، وَشَرُّ النَّدَامَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَشَرُّ الْمَآكِلِ أَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَشَرُّ الْمَكَاسِبِ كَسْبُ الزِّنَى»
English Translation
Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) said: We went out with the Messenger of Allah (peace be upon him) in the expedition of Tabuk, and he narrated a long hadith mentioning a lengthy sermon by the Prophet (peace be upon him), which included: "The worst of matters are newly invented ones (in religion). The worst blindness is the blindness of the heart. The worst excuse is the one made at the time of death. The worst shame is the shame on the Day of Resurrection."
Urdu Translation
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم غزوہ تبوک میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ہمراہ نکلے اور (پھر) انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی اس میں آپصلی اللہ علیہ وسلمکا ایک طویل خطبہ ذکر کیا، جس میں تھا:”بدترین امور (دین میں) جاری کیے جانے والے نئے نئے کام ہیں اور بدترین اندھا وہ ہے جو دل کا اندھا ہو، سب سے بری معذرت وہ ہے جو موت کے وقت کی جائے اور سب سے بری شرمندگی قیامت کے دن کی شرمندگی ہے، بدترین کھانا یتیم کا مال کھانا ہے اور بدترین کمائی زنا کی کمائی ہے۔“[مسند الشهاب/حدیث: 1337]
