Arabic (Original)
نا هُشَيْمٌ , قَالَ: نا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ , قَالَ:" الأَيْمَانُ ثَلاثَةٌ: يَمِينٌ تُكَفَّرُ، وَيَمِينٌ لا تُكَفَّرُ، وَيَمِينٌ لا يُؤَاخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا، فَأَمَّا الَّتِي تُكَفَّرُ فَرَجُلٌ يُعَاهِدُ أَنْ لا يَفْعَلَ كَذَا وَكَذَا فَيَفْعَلُهُ، فَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ، وَأَمَّا الْيَمِينُ الَّتِي لا تُكَفَّرُ فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ عَلَى الأَمْرِ يَتَعَمَّدُ فِيهِ الْكَذِبَ، فَلَيْسَ فِيهِ كَفَّارَةٌ، وَأَمَّا الْيَمِينُ الَّتِي لا يُؤَاخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا فَرَجُلٌ يَحْلِفُ عَلَى أَمْرٍ يَرَى أَنَّهُ كَمَا حَلَفَ عَلَيْهِ، فَلا يَكُونُ كَذَلِكَ، فَهَذَا مَا لا كَفَّارَةَ فِيهِ، وَهُوَ اللَّغْوُ".
English Translation
Abu Malik (may Allah have mercy on him) said: "Oaths are of three types: an oath requiring expiation, an oath with no expiation, and an oath for which the person is not held accountable. The one requiring expiation is when a man pledges not to do something then does it — he must expiate. The one with no expiation is a deliberately false oath — there is no expiation but rather sin. The one not held accountable is an idle oath."
Urdu Translation
ابو مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: قسمیں تین طرح کی ہوتی ہیں: ایک وہ جس پر کفارہ لازم ہے، دوسری وہ جس پر کفارہ نہیں، اور تیسری وہ جس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ پہلی یہ کہ آدمی کسی کام کے نہ کرنے کی قسم کھائے اور پھر وہ کر لے تو کفارہ دینا ہوگا، دوسری یہ کہ جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے، اس پر کوئی کفارہ نہیں بلکہ وہ گناہ کبیرہ ہے، اور تیسری یہ کہ کسی بات پر قسم کھائے اس گمان میں کہ وہ صحیح ہے، لیکن حقیقت میں وہ ویسے نہ ہو، تو ایسی قسم پر نہ مؤاخذہ ہے نہ کفارہ، اور یہی لغو قسم ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 784]
