Arabic (Original)
نا نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ تَزَوَّجَ ابْنَةَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَقَالَتْ لا تُطَلِّقْنِي، وَأَمْسِكْنِي وَاقْسِمْ لِي مَا بَدَا لَكَ أَنْ تُقْسِمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا سورة النساء آية 128، فَجَرَتِ السُّنَّةُ بِأَنَّالرَّجُلَ إِذَا كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ فَكَبُرَتْ وَكَرِهَهَا، فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَصَالَحَتْهُ عَلَى صُلْحٍ، فَلَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا وَيَقْسِمَ لَهَا مَا شَاءَ".
English Translation
Sa'id ibn al-Musayyib (may Allah have mercy on him) narrated: Rafi' ibn Khadij married the daughter of Muhammad ibn Maslamah and wanted to divorce her. She said: 'Do not divorce me; keep me and allot me whatever portion of your time you wish.' So Allah revealed: 'And if a woman fears from her husband contempt or evasion, there is no blame on them if they make a settlement between them' (al-Nisa: 128). Thus the practice was established that if a man's wife grows old and he dislikes her and wishes to divorce her, and she agrees to a settlement, he may keep her and allot whatever portion he wishes.
Urdu Translation
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ کی بیٹی سے نکاح کیا، پھر اسے طلاق دینا چاہی، تو عورت نے کہا: مجھے طلاق نہ دو، مجھے اپنے نکاح میں رکھو اور میرے لیے جتنا چاہو نفقہ مقرر کر دو، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا﴾، تو سنت جاری ہوگئی کہ اگر کسی شخص کے نکاح میں عورت ہو اور وہ بوڑھی ہو جائے اور شوہر اسے ناپسند کرے اور طلاق دینا چاہے، تو اگر عورت صلح کر لے تو مرد اس کو رکھ سکتا ہے اور جو چاہے اس کے لیے مقرر کرے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 701]
