Arabic (Original)
نا هُشَيْمٌ , قَالَ: نا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً نَشَزَتْ عَلَى زَوْجِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى شُرَيْحٍ , فَقَالَ شُرَيْحٌ:" ابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا"، فَفَعَلُوا! فَنَظَرَ الْحَكَمَانِ فِي أَمْرِهِمَا، فَرَأَيَا أَنْ يُفَرِّقَا بَيْنَهُمَا، فَكَرِهَ ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ شُرَيْحٌ:" فَفِيمَ كُنَّا فِيهِ الْيَوْمَ؟" وَأَجَازَ أَمْرَهُمَا.
English Translation
A woman was disobedient to her husband, and they brought their case to Judge Shuraih (may Allah have mercy on him). He said: 'Send an arbitrator from his family and an arbitrator from her family.' They did so. The two arbitrators examined their case and decided to separate them. The husband objected, so Shuraih said: 'Then what have we been doing all day?' And he upheld the arbitrators' decision.
Urdu Translation
ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف نافرمانی کی، تو وہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس مقدمہ لے کر گئے۔ قاضی شریح نے فرمایا:”ایک ثالث اس کے خاندان سے اور ایک ثالث شوہر کے خاندان سے مقرر کرو۔“چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ دونوں ثالثوں نے ان کے معاملے پر غور کیا اور فیصلہ کیا کہ ان کے درمیان جدائی ہونی چاہیے۔ اس پر مرد نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا، تو قاضی شریح نے فرمایا:”پھر ہم آج کس معاملے میں تھے؟“اور دونوں ثالثوں کے فیصلے کو جائز قرار دیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 630]
