Arabic (Original)
نايَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَتَكَاثُرِهِمْ وَنَظَرَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَقَلَّهُمْ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ:" اللَّهُمَّ لا تُوَدِّعْ مِنِّي، اللَّهُمَّ لا تَخْذُلْنِي، اللَّهُمَّ لا تَتِرْنِي، اللَّهُمَّ أَنْشُدُكَ مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إِنْ يَهْزِمْ هَذَا الْجَمْعُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ هَذَا الْجَمْعَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لا تُعْبَدُ أَبَدًا"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَلْحَفْتَ وَاللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللَّهِ لا يَتَوَدَّعُ مِنْكَ، وَلا يَخْذُلُكَ، وَلا يَتِرُكَ، وَلَيَنْصُرَنَّكَ عَلَى عَدُوِّكَ كَمَا وَعَدَكَ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا، وَقَالَ:" رَأَيْتُ جِبْرِيلَ مُعْتَجِرًا مُتَدَلِّيًا مِنَ السَّمَاءِ مُعْتَجِرًا بِعُجْرَةِ الْقِتَالِ، عَلَى أَسْنَانِهِ قَتَرَةُ الْغُبَارِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ النَّصْرُ".
English Translation
Al-Sha'bi (may Allah have mercy on him) said: "A Muslim does not inherit from a dhimmi, nor does a dhimmi inherit from a Muslim."
Urdu Translation
سیدنا عبیداللہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بدر کے دن رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے مشرکین کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت کو دیکھا تو دو رکعت نماز پڑھی اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں جانب کھڑے تھے، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے نماز میں فرمایا:”اے اللہ! مجھے تنہا نہ چھوڑ، اے اللہ! مجھے رسوا نہ کر، اے اللہ! مجھے محروم نہ کر، اے اللہ! میں تجھ سے وہ وعدہ مانگتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا، اے اللہ! اگر یہ مشرکین کا لشکر مسلمانوں کے اس لشکر کو شکست دے دے تو پھر کبھی تیری عبادت نہ ہو گی۔“سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:”میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو ہرگز نہ چھوڑے گا، نہ آپ کو رسوا کرے گا اور نہ آپ کو محروم کرے گا اور ضرور آپ کو آپ کے دشمن پر فتح دے گا جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے۔“پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمخوش ہو کر لوٹے اور فرمایا:”میں نے جبرائیل علیہ السلام کو آسمان سے اترتے دیکھا کہ انہوں نے جنگی لباس کے ساتھ اپنے سر کو لپیٹا ہوا تھا اور ان کے دانتوں پر گرد و غبار تھا، تب میں نے پہچان لیا کہ یہ نصرت ہے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4048]
