Arabic (Original)
ناإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْصَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ: غَزَوْنَا غَزْوَةً إِلَى طَرَفِ الشَّامِ، فَأُمِّرَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَانْضَمَّ إِلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَمْدَادِ حِمْيَرَ يَأْوِي إِلَى رِحَالِنَا، وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ إِلا سَيْفٌ لَهُ، لَيْسَ مَعَهُ سِلاحٌ غَيْرُهُ، فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا فَلَمْ يَزَلْ يَحْتَالُ حَتَّى أَخَذَ مِنْ جِلْدِهِ كَهَيْئَةِ الْمِجَنِّ، ثُمَّ بَسَطَهُ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ أَوَقَدْ عَلَيْهِ حَتَّى جَفَّ، فَجَعَلَ لَهُ مَمْسَكًا كَهَيْئَةِ التُّرْسِ، فَقُضِيَ لَنَا أَنْ لَقِينَا عَدُوَّنَا، وَفِيهِمْ أَخْلاطٌ مِنَ الرُّومِ، وَالْعَرَبِ مِنْ قُضَاعَةَ، فَقَاتَلُونَا قِتَالا شَدِيدًا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ، وَسَرْجٍ مُذَهَّبٍ، وَمِنْطَقَةٍ مُلَطَّخَةٍ، وَسَيْفٍ مِثْلِ ذَلِكَ، فَجَعَلَ يَحْمِلُ عَلَى الْقَوْمِ وَيُغْرِي بِهِمْ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ الْمَدَدِيُّ يَخْتِلُ لِذَلِكَ الرُّومِيِّ حَتَّى مَرَّ بِهِ، فَاسْتَقْفَاهُ، فَضَرَبَ عُرْقُوبَ فَرَسِهِ بِالسَّيْفِ، ثُمَّ وَقَعَ وَأَتْبَعَهُ ضَرْبًا بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ الْفَتْحَ أَقْبَلْ يُسْلِبُ السَّلَبَ، وَقَدْ شَهِدَ لَهُ النَّاسُ أَنَّهُ قَاتِلُهُ، فَأَعْطَاهُ خَالِدٌ بَعْضَ سَلَبِهِ، وَأَمْسَكَ سَائِرَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى رَحْلِ عَوْفٍ، ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عَوْفٌ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَلْيُعْطِكَ مَا بَقِيَ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَمَشَى حَتَّى أَتَى خَالِدًا، فَقَالَ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْفَعَ إِلَيْهِ سَلَبَ قَتِيلِهِ؟ قَالَ خَالِدٌ: اسْتَكْثَرْتُهُ لَهُ، فَقَالَ عَوْفٌ: لَئِنْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَهُ فَاسْتَعْدَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا خَالِدًا، وَعَوْفٌ قَاعِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْفَعَ إِلَى هَذَا سَلَبَ قَتِيلِهِ؟" قَالَ: اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَادْفَعْ إِلَيْهِ"، قَالَ: فَمَرَّ بِعَوْفٍ، فَجَرَّ عَوْفٌ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ، فَقَالَ:" لا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ! لا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ! هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي أُمَرَائِي، إِنَّمَامَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلا وَغَنَمًا، فَرَعَاهَا، ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا، فَأَوْرَدَهَا حَوْضَهُ، فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ، وَتَرَكَتْ كَدَرَهُ، فَصَفْوُهُ أَمْرُهُ لَكُمْ، وَكَدَرُهُ عَلَيْهِمْ، وَإِذَا تَنَازَعَ رَجُلانِ فِي الْقَتِيلِ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: يَقُولُ أَنَا قَتَلْتُهُ , وَلَيْسَ بِالْعِلْجِ رَمَقٌ، وَلا بَيِّنَةٌ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا فَالسَّلَبُ بَيْنَهُمَا، وَإِنْ كَانَ بِالْعِلْجِ رَمَقٌ فَالسَّلَبُ لِمَنْ قَالَ الْعِلْجُ: إِنَّهُ قَتَلَهُ".
English Translation
'Awf ibn Malik al-Ashja'i (may Allah be pleased with him) said: "We went on an expedition to the borders of Syria with Khalid ibn al-Walid (may Allah be pleased with him) as our commander. A man from the reinforcements of Himyar joined us, having nothing but a sword. When a Muslim slaughtered a camel, the man asked for its hide. He made a shield from it, then fought a Roman, killed him, and took his horse and weapons. Khalid granted him the spoils."
Urdu Translation
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ایک لشکر کے ساتھ شام کے کنارے پر جہاد کے لیے گئے، اور ہم پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا گیا۔ ہمارے ساتھ یمن سے ایک مددگار (مددی) بھی شامل ہوا، جس کے پاس صرف ایک تلوار تھی، نہ کوئی دوسرا ہتھیار۔ جب ایک مسلمان نے اونٹ ذبح کیا، تو اس مددگار نے اس کی کھال کو ڈھال کی طرح بنایا اور اسے آگ پر سخت کر کے ڈھال بنالی۔ جب دشمن سے ہماری ملاقات ہوئی، تو ان میں رومی اور قضاعہ قبیلے کے عرب شامل تھے، ان میں ایک رومی سوار سونے کے زین اور قیمتی ہتھیاروں کے ساتھ تھا، وہ بہت بہادری سے مسلمانوں پر حملے کر رہا تھا۔ مددی نے موقع پا کر اس کے گھوڑے کی پچھلی ٹانگ پر تلوار ماری، وہ گرا، تو اس نے رومی کو قتل کر دیا اور اس کے سامان کو قبضہ میں لے لیا۔ جب فتح ہوئی تو اس نے سلب لینے کی کوشش کی، لیکن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کا کچھ حصہ دیا اور باقی روک لیا۔ مددی نے سیدنا عوف بن مالک کو یہ شکایت کی تو عوف نے کہا:”واپس جا کر مانگو۔“جب دوبارہ مانگا تو خالد نے انکار کیا۔ مددی نے سیدنا عوف بن مالک سے کہا کہ اگر میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھوں گا تو شکایت کروں گا۔ جب مدینہ پہنچے، تو مددی نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے شکایت کی۔ آپ نے خالد کو بلایا اور فرمایا:”تم نے اسے اس کے مقتول کا سلب کیوں نہ دیا؟“خالد نے کہا:”یا رسول اللہ! میں نے اسے زیادہ سمجھا۔“تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”سلب اسے دو!“پھر جب مددی سیدنا عوف کے پاس آیا تو عوف نے کہا:”دیکھ لو! میں نے تم سے کہا تھا۔“تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ بات ناگوار گزری اور فرمایا:”خالد کو مت روکو! میرے امراء کو مت ستاؤ! تمہاری مثال اس شخص کی ہے جسے اونٹ اور بکریوں پر نگران بنایا گیا، تو اس نے انہیں پانی پلایا، صاف پانی خود پی لیا اور گدلا پانی ان پر چھوڑ دیا۔“(اور مزید فرمایا) کہ اگر دو افراد ایک مقتول پر جھگڑیں اور کوئی گواہی موجود نہ ہو، تو مالِ غنیمت دونوں میں تقسیم کیا جائے گا، اور اگر مقتول کے پاس زندگی کی کوئی علامت ہو اور وہ کسی ایک کے حق میں گواہی دے تو سلب اسی کا ہوگا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3874]
