Arabic (Original)
نا نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ: حَاصَرْنَا حِصْنًا عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَرَمَى عَبْدٌ مِنَّا بِسَهْمٍ فِيهِ أَمَانٌ، فَخَرَجُوا، فَقُلْنَا: مَا أَخْرَجَكُمْ؟ فَقَالُوا: أَمَّنْتُمُونَا، فَقُلْنَا: مَا ذَاكَ إِلا عَبْدٌ، وَلا نُجِيزُ أَمْرَهُ، فَقَالُوا: مَا نَعْرِفُ الْعَبْدَ مِنْكُمْ مِنَ الْحُرِّ، فَكَتَبْنَا إِلَىعُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَكَتَبَ:" أَنَّالْعَبْدَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ذِمَّتُهُ ذِمَّتُكُمْ".
English Translation
Fudayl ibn Zayd al-Raqashi (may Allah have mercy on him) said: "We besieged a fortress during the time of 'Umar ibn al-Khattab. A slave from among us shot an arrow with a guarantee of safety. The people of the fortress came out. We said: 'Why did you come out?' They said: 'You gave us safety.' We said: 'It was only a slave, and we do not accept his decision.' They said: 'We do not distinguish between your slave and your free man.' So we wrote to 'Umar, and he upheld the safety guarantee."
Urdu Translation
فضیل بن زید رقاشی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔ ہم میں سے ایک غلام نے امان کا تیر پھینکا، قلعہ والے باہر آگئے۔ ہم نے کہا:”تم کیوں آئے؟“انہوں نے کہا:”تم نے ہمیں امان دی۔“ہم نے کہا:”یہ تو غلام تھا، ہم اس کا فیصلہ نہیں مانتے۔“وہ کہنے لگے:”ہم تو تم میں غلام و آزاد میں فرق نہیں کرتے۔“ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا تو انہوں نے جواب دیا:”غلام بھی مسلمانوں میں سے ایک ہے، اس کی دی گئی امان بھی معتبر ہے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3785]
