Arabic (Original)
نا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ،رَجُلٌ أَسَرَتْهُ الدَّيْلَمُ، فَأَخَذُوا عَلَيْهِ عَهْدًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ مِنَ الْمَالِ بِكَذَا وَكَذَا، وَإِلا رَجَعَ إِلَيْهِمْ , فَأَرْسَلُوهُ، فَلَمْ يَجِدْ , قَالَ:" يَفِي لَهُمْ بِالْعَهْدِ"، قَالَ: إِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ، فَأَبَى إِلا أَنْ يَفِيَ لَهُمْ بِالْعَهْدِ.
English Translation
Muhammad ibn Suqah (may Allah have mercy on him) said: "I was sitting with 'Ata ibn Abi Rabah when a man came and asked about a person captured by the Daylam who was made to promise to bring a certain amount of money or return to captivity. He was released but could not find the money. 'Ata said: 'He must fulfill his promise.' The man said: 'But they are polytheists!' 'Ata said: 'Even so — fulfill your promise.'"
Urdu Translation
محمد بن سوقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہا:”اے ابو محمد! ایک شخص کو دیلم نے قید کیا، اور اس سے مال لانے کا وعدہ لیا، ورنہ واپس آنا ہوگا۔“اسے چھوڑا گیا، لیکن مال نہ پایا۔ عطا رحمہ اللہ نے فرمایا:”اسے وعدہ پورا کرنا ہوگا۔“اس نے کہا:”وہ مشرک ہیں۔“عطا نے پھر بھی وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3783]
