Arabic (Original)
نا نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: ارْتَدَّ سِتَّةٌ مِنْ نَفَرٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ يَوْمَ تُسْتَرَ، فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلَنِي، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ النَّفَرُ؟" فَأَخَذْتُ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ، ثُمَّ قَالَ:"مَا فَعَلَ النَّفَرُ؟" قُلْتُ: قُتِلُوا , قَالَ:" لأَنْ أَكُونَ أَدْرَكْتُهُمْ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ" , قَالَ: قُلْتُ لَهُ: وَمَا سَبِيلُهُمْ إِلا الْقَتْلُ؟ قَالَ:" كُنْتُ أَعْرِضُ عَلَيْهِمُ الدُّخُولَ مِنَ الْباب الَّذِي خَرَجُوا مِنْهُ، فَإِنْ فَعَلُوا وَإِلا اسْتَوْدَعْتُهُمُ السِّجْنَ".
English Translation
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) said: "Six men from Bakr ibn Wa'il apostated on the Day of Tustar. I came to 'Umar and he asked about them. When I told him they were killed, he said: 'Had I reached them, it would have been more beloved to me than everything the sun has risen upon.' I asked: 'Was there no other option but killing?' He said: 'I would have invited them to re-enter from the door they left. If they accepted, good. Otherwise, I would have imprisoned them.'"
Urdu Translation
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تستر کے دن بنو بکر بن وائل کے چھ افراد مرتد ہو گئے۔ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ انہوں نے پوچھا:”ان لوگوں کا کیا ہوا؟“میں نے کسی اور بات کی طرف رخ موڑ دیا۔ پھر دوبارہ پوچھا۔ میں نے کہا:”وہ قتل کر دیے گئے۔“عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”اگر میں انہیں پا لیتا تو یہ مجھے سورج کے طلوع ہونے سے زیادہ محبوب ہوتا۔“میں نے کہا:”کیا ان کا قتل ضروری تھا؟“فرمایا:”میں انہیں واپس اسلام کی طرف بلاتا، اگر وہ قبول کرتے تو ٹھیک، ورنہ جیل میں ڈال دیتا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3764]
