Arabic (Original)
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَاأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَاالأَعْمَشُ، عَنْأَبِي صَالِحٍ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَوْلِهِ:وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا سورة البقرة آية 143، قَالَ:" عَدْلا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: يُؤْتَى بِالنَّبِيِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَهُ رَجُلٌ لَمْ يَتَّبِعْهُ غَيْرُهُ، وَالنَّبِيِّ مَعَهُ الرَّجُلانِ لَمْ يَتَّبِعْهُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَيُقَالُ لِلنَّبِيِّ: هَلْ بَلَّغْتَ هَؤُلاءِ؟، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ لَهُمْ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟، فَيَقُولُونَ: لا، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَنْ يَشْهَدُ لَكُمْ أَنَّكُمْ قَدْ بَلَّغْتُمْ؟، فَيَقُولُونَ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَشْهَدُونَ لَهُمْ بِالْبَلاغِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا يُدْرِيكُمْ؟، فَيَقُولُونَ: أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا، فَصَدَّقْنَا بِذَلِكَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا سورة البقرة آية 143، يَقُولُ: عَدْلا، لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ سورة البقرة آية 143، قَالَ: عَلَى هَذِهِ الأُمَمِ أَنَّهُمْ قَدْ بُلِّغُوا".
English Translation
Al-Hasan (al-Basri) said: "Whoever recites Ayat al-Kursi when he goes to bed, a guardian from Allah protects him, and no devil approaches him until morning."
Urdu Translation
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اللہ عزوجل کے فرمان﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾کے بارے میں فرمایا: یعنی”عدل والی امت“،﴿لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ﴾یعنی”تم لوگوں پر گواہ بنو گے“۔ قیامت کے دن ایک نبی لایا جائے گا جس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہوگا، اور ایک نبی ہوگا جس کے ساتھ دو آدمی ہوں گے، اور کسی کے ساتھ اس سے زیادہ ہوں گے، پھر نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے ان لوگوں تک پیغام پہنچایا تھا؟ وہ جواب دیں گے: ہاں۔ پھر ان لوگوں سے پوچھا جائے گا: کیا تمہارے پاس پیغام پہنچا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر نبی سے کہا جائے گا: تمہارے گواہ کون ہیں؟ وہ کہیں گے: محمدصلی اللہ علیہ وسلماور ان کی امت۔ پس امت محمدیہ انبیاء کی تصدیق کرے گی کہ انہوں نے پیغام پہنچایا تھا۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیسے معلوم؟ وہ کہیں گے: ہمارے نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں بتایا تھا کہ انبیاء نے پیغام پہنچایا ہے، پس ہم نے اس کی تصدیق کی۔ یہی اللہ عزوجل کا فرمان ہے﴿جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾یعنی”عدل والی امت“،﴿لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ﴾یعنی”تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو“۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 222]
