Arabic (Original)
حَدَّثَنَا سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَاخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ الحَارِثٍ السُّلَمِيِّ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ:" مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟، فَقَالَ: مِنَ الْعِرَاقِ، قَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ النَّاسَ وَرَاءَكَ؟، قَالَ: تَرَكْتُ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَلِيًّا سَوْفَ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ:" لَوْ شَعَرْنَا، مَا زَوَّجْنَا نِسَاءَهُ، وَلا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ، إِنَّ الشَّيَاطِينَ كَانَتْ تَسْتَرِقُ السَّمْعَ فِي السَّمَاءِ، فَإِذَا سَمِعَ أَحَدُهُمْ كَلِمَةَ حَقٍّ كَذَبَ مَعَهَا أَلْفَ كِذْبَةٍ، فَأُشْرِبَتْهَا قُلُوبُ النَّاسِ وَاتَّخَذُوهَا دَوَاوِينَ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهَا سُلَيْمَانُ، فَدَفَنَهَا تَحْتَ كُرْسِيِّهِ، فَلَمَّا مَاتَ سُلَيْمَانُ، قَامَ شَيَاطِينُ بِالطَّرِيقِ، فَقَالَتْ: أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزِ سُلَيْمَانَ الْمُمَنَّعِ الَّذِي لا كَنْزَ لَهُ مِثْلُهُ؟، فَاسْتَخْرَجُوهَا، قَالُوا: سِحْرٌ، وَإِنَّ بَقِيَّتَهَا هَذَا يَتَحَدَّثُ بِهِ أَهْلُ الْعِرَاقِ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَ سُلَيْمَانَ فِيمَا قَالُوا مِنَ السِّحْرِ: وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ سورة البقرة آية 102" إِلَى آخِرِ الآيَةِ.
English Translation
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) was on a journey when he dismounted. A man came alongside him. The Prophet (peace be upon him) looked at him and said: "Shall I not tell you about the most excellent part of the Quran?" Then he recited: "All praise is due to Allah, Lord of the worlds."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص ان کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: عراق سے، انہوں نے پوچھا: وہاں کے لوگوں کو کیسے چھوڑا؟ اس نے کہا: میں لوگوں کو اس بات پر گفتگو کرتے چھوڑ آیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس دوبارہ آئیں گے، انہوں نے فرمایا: اگر ہمیں معلوم ہوتا تو نہ ان کی بیویوں کی شادی کرتے اور نہ ان کا ورثہ تقسیم کرتے، میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں، شیاطین آسمان سے چھپ کر باتیں سنتے تھے، جب ان میں سے کوئی ایک سچی بات سنتا تو اس کے ساتھ ہزار جھوٹ ملاتا، لوگوں کے دلوں میں وہ باتیں بٹھا دی گئیں اور انہوں نے انہیں دیوان بنا لیا، حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے جان لیا اور اپنے تخت کے نیچے دفن کر دیا، جب ان کا وصال ہوا تو شیاطین نے راستے پر کھڑے ہو کر کہا: کیا میں تمہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس نایاب خزانے کی طرف نہ بتاؤں جس کا کوئی خزانہ برابر نہیں؟ لوگوں نے اسے نکالا، کہا: یہ جادو ہے، اور اس کا باقی حصہ آج کل اہل عراق بیان کرتے ہیں، اللہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے عذر کو جادو کے الزام سے بری کرنے کے لیے نازل فرمایا:﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ﴾سے آخر آیت تک۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 207]
