Arabic (Original)
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلانِ بِالأَبْوَاءِ، فَقَالا لَهُ: إِنَّا تَرَكْنَا هَذَا الرَّجُلَ يَبِيعُ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ، يُرِيدَانِ ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَابْنُ عُمَرَ:" أَتَعْرِفَانِ أَبَا حَفْصٍ، فَإِنَّهُقَضَى فِي أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ: لا يُبَعْنَ، وَلا يُوهَبْنَ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا صَاحِبُهَا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ".
English Translation
Ibn Umar told two men at al-Abwa': "Do you know Abu Hafs (i.e., Umar)? He ruled regarding the mothers of children that they cannot be sold or given as gifts. The master may benefit from her, but when he dies, she is free."
Urdu Translation
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دو آدمیوں نے ابواء کے مقام پر ملاقات کی اور کہا:”ہم نے فلاں شخص (ابن زبیر) کو امہات الاولاد کو بیچتے دیکھا ہے۔“ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:”کیا تم ابو حفص (یعنی عمر) کو جانتے ہو؟ بے شک انہوں نے امہات الاولاد کے بارے میں فیصلہ دیا تھا کہ نہ ان کا بیچنا جائز ہے، نہ ہبہ کرنا، مالک ان سے فائدہ اٹھائے گا اور جب وہ مر جائے تو وہ آزاد ہو جائیں گی۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3230]
