Arabic (Original)
العاشر: عن ابن عباس، رضي الله عنهما، قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بموعظة فقال: "يا أيها الناس إنكم محشورون إلى الله تعالى حفاة عراة غرلاً {كما بدأنا أول خلق نعيده وعداً علينا إنا كنا فاعلين} ((الأنبياء: 103)) ألا وإن أول الخلائق يكسى يوم القيامة إبراهيم ، صلى الله عليه وسلم، ألا وإنه سيجاء برجال من أمتي ، فيؤخذ بهم ذات الشمال؛ فأقول: يارب أصحابي؛ فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك، فأقول كما قال العبد الصالح: {وكنت عليهم شهيداً ما دمت فيهم} إلى قوله: { العزيز الحكيم} ) ((المائدة : 117،118)) فيقال لي : إنهم لم يزالوا مرتدين على أعقابهم منذ فارقتهم" ((متفق عليه)). (46)
English Translation
Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with him) reported:Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "On the Day of Resurrection you will be assembled barefooted, naked and uncircumcised". He then recited: "As We began the first creation, We shall repeat it. (It is) a promise binding upon Us. Truly, We shall do it," and continued: "The first to be clothed on the Day of Resurrection will be (Prophet) Ibrahim (upon him be peace). Then some of my Companions will be taken to the left, (i.e., towards Hell-fire) and when I will say, 'They belong to my Ummah, O my Rubb!' It would be said: 'You do not know what they invented after you had left them.' I shall then say as the righteous slave .
Urdu Translation
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرماتے ہوئے کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا: اے لوگو! تمہیں اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنے کے جمع کیا جائے گا۔ "جیسے ہم نے پہلی بار پیدا کیا ویسے ہی دوبارہ بنائیں گے، یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم ضرور کرنے والے ہیں" (الانبیاء: 104)۔ سنو! قیامت کے دن سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور سنو! میری امت کے کچھ لوگوں کو بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں۔ کہا جائے گا: تجھے نہیں معلوم تیرے بعد انہوں نے کیا نئی باتیں ایجاد کیں۔ میں وہی کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا: "جب تک میں ان میں رہا ان پر نگران رہا، جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگران تھا" (المائدہ: 117)۔ مجھ سے کہا جائے گا: جب تو نے انہیں چھوڑا اس وقت سے یہ لوگ مسلسل مرتد ہوتے رہے۔ (متفق علیہ)
