Sunan an-Nasa'iThe Book of Oaths (qasamah), Retaliation and Blood Money#4727Sahih
Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ سِمَاكٍ، ذَكَرَ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَتَلَ هَذَا أَخِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَقَتَلْتَهُ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ . قَالَ نَعَمْ قَتَلْتُهُ . قَالَ " كَيْفَ قَتَلْتَهُ " . قَالَ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي إِلاَّ فَأْسِي وَكِسَائِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتُرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ " . قَالَ أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ . فَرَمَى بِالنِّسْعَةِ إِلَى الرَّجُلِ فَقَالَ " دُونَكَ صَاحِبَكَ " . فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ " . فَأَدْرَكُوا الرَّجُلَ فَقَالُوا وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ " . فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ " . وَهَلْ أَخَذْتُهُ إِلاَّ بِأَمْرِكَ فَقَالَ " مَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ " . قَالَ بَلَى . قَالَ " فَإِنْ ذَاكَ " . قَالَ ذَلِكَ كَذَلِكَ .
English Translation
Alqamah bin Wa'il narrated from his father that he was sitting with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when a man came leading another man by a string. He submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), this man killed my brother." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said to him: "Did you kill him?" He submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) even if he did not confess I would have brought proof against him." He said: "Yes, I killed him." He said: "How did you kill him?" He said: "He and I were chopping firewood from a tree and he insulted me, so I got angry and struck him with the ax on the forehead." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Do you have any wealth with which you can pay the Diyah to save yourself?" He submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I do not have anything but my ax and my clothes." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said to him: "Do you think your people will pay to save you?" He said: "I am too insignificant to them for that." He threw the string to the man and said: "Here, thank him." When he turned to go, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "If he kills him, he will be like him. "They caught up with the man, and said: "Woe to you! The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'If he kills him, he will be like him. "So he went back to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I have been told that you said: 'if he kills him, he will be like him. 'But I only took him because you told me to. He said: 'Don't you want him to carry your sin and the sin of your companion (the victim)?' He said: 'Yes, if that is the case.' He said: 'And that is how it is
Urdu Translation
حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو تسمے سے باندھ کر لایا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (قاتل سے) ارشاد فرمایا: کیا تم نے اسے قتل کیا؟ (ولی نے کہا:) یا رسول اللہ! اگر وہ اعتراف نہ بھی کرتا تو میں اس کے خلاف گواہی پیش کرتا۔ قاتل نے کہا: ہاں، میں نے قتل کیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم نے کیسے قتل کیا؟ اس نے کہا: میں اور وہ ایک درخت سے لکڑیاں کاٹ رہے تھے، اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا اور میں نے کلہاڑی اس کے سر پر ماری۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا: کیا تمہارے پاس مال ہے جو اپنی جان کے بدلے ادا کرو؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس اپنی کلہاڑی اور چادر کے سوا کچھ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو تمہاری قوم تمہیں خرید لے گی (یعنی تمہاری دیت ادا کر دے گی)؟ اس نے کہا: میں اپنی قوم کے نزدیک اس سے بھی کم تر ہوں۔ پس آپ نے تسمہ ولی کی طرف پھینکا اور ارشاد فرمایا: لے جاؤ اپنے ساتھی کو۔ جب وہ مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اس نے اسے قتل کیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے۔ لوگوں نے اس شخص کو جا کر پکڑا اور کہا: تمہیں خبر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر اس نے اسے قتل کیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر اس نے اسے قتل کیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے۔ حالانکہ میں نے اسے آپ ہی کے حکم سے پکڑا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نہیں چاہتے کہ وہ تمہارے اور تمہارے ساتھی دونوں کے گناہ اٹھائے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: بس وہ (بات) ایسے ہی ہے۔ راوی نے کہا: وہ ایسا ہی ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ سِمَاكٍ، ذَكَرَ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَتَلَ هَذَا أَخِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَقَتَلْتَهُ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ . قَالَ نَعَمْ قَتَلْتُهُ . قَالَ " كَيْفَ قَتَلْتَهُ " . قَالَ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي إِلاَّ فَأْسِي وَكِسَائِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتُرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ " . قَالَ أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ . فَرَمَى بِالنِّسْعَةِ إِلَى الرَّجُلِ فَقَالَ " دُونَكَ صَاحِبَكَ " . فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ " . فَأَدْرَكُوا الرَّجُلَ فَقَالُوا وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ " . فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ " . وَهَلْ أَخَذْتُهُ إِلاَّ بِأَمْرِكَ فَقَالَ " مَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ " . قَالَ بَلَى . قَالَ " فَإِنْ ذَاكَ " . قَالَ ذَلِكَ كَذَلِكَ .
Alqamah bin Wa'il narrated from his father that he was sitting with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when a man came leading another man by a string. He submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), this man killed my brother." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said to him: "Did you kill him?" He submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) even if he did not confess I would have brought proof against him." He said: "Yes, I killed him." He said: "How did you kill him?" He said: "He and I were chopping firewood from a tree and he insulted me, so I got angry and struck him with the ax on the forehead." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Do you have any wealth with which you can pay the Diyah to save yourself?" He submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I do not have anything but my ax and my clothes." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said to him: "Do you think your people will pay to save you?" He said: "I am too insignificant to them for that." He threw the string to the man and said: "Here, thank him." When he turned to go, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "If he kills him, he will be like him. "They caught up with the man, and said: "Woe to you! The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'If he kills him, he will be like him. "So he went back to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I have been told that you said: 'if he kills him, he will be like him. 'But I only took him because you told me to. He said: 'Don't you want him to carry your sin and the sin of your companion (the victim)?' He said: 'Yes, if that is the case.' He said: 'And that is how it is
حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو تسمے سے باندھ کر لایا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (قاتل سے) ارشاد فرمایا: کیا تم نے اسے قتل کیا؟ (ولی نے کہا:) یا رسول اللہ! اگر وہ اعتراف نہ بھی کرتا تو میں اس کے خلاف گواہی پیش کرتا۔ قاتل نے کہا: ہاں، میں نے قتل کیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم نے کیسے قتل کیا؟ اس نے کہا: میں اور وہ ایک درخت سے لکڑیاں کاٹ رہے تھے، اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا اور میں نے کلہاڑی اس کے سر پر ماری۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا: کیا تمہارے پاس مال ہے جو اپنی جان کے بدلے ادا کرو؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس اپنی کلہاڑی اور چادر کے سوا کچھ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو تمہاری قوم تمہیں خرید لے گی (یعنی تمہاری دیت ادا کر دے گی)؟ اس نے کہا: میں اپنی قوم کے نزدیک اس سے بھی کم تر ہوں۔ پس آپ نے تسمہ ولی کی طرف پھینکا اور ارشاد فرمایا: لے جاؤ اپنے ساتھی کو۔ جب وہ مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اس نے اسے قتل کیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے۔ لوگوں نے اس شخص کو جا کر پکڑا اور کہا: تمہیں خبر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر اس نے اسے قتل کیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر اس نے اسے قتل کیا تو وہ بھی اسی جیسا ہے۔ حالانکہ میں نے اسے آپ ہی کے حکم سے پکڑا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نہیں چاہتے کہ وہ تمہارے اور تمہارے ساتھی دونوں کے گناہ اٹھائے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: بس وہ (بات) ایسے ہی ہے۔ راوی نے کہا: وہ ایسا ہی ہے۔