Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ عَلَى نَاضِحٍ لَنَا سَوْءٍ فَقُلْتُ لاَ يَزَالُ لَنَا نَاضِحُ سَوْءٍ يَا لَهْفَاهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " تَبِيعُنِيهِ يَا جَابِرُ " . قُلْتُ بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا وَقَدْ أَعَرْتُكَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ " . فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ هَيَّأْتُهُ فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ فَقَالَ " يَا بِلاَلُ أَعْطِهِ ثَمَنَهُ " . فَلَمَّا أَدْبَرْتُ دَعَانِي فَخِفْتُ أَنْ يَرُدَّهُ فَقَالَ " هُوَ لَكَ " .
English Translation
It was narrated tat Hadrat Jabir Said:"The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) caught up with me when I was riding a bad camel of ours, and I said: 'We have a bad camel, mare's the pit! The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Will you sell it to me, O Hadrat Jabir?' I Said, 'No, It is yours, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).; He said: 'O Allah forgive him; O Allah, have mercy on him. I will buy it for such and such, and I will lend it to you to ride until (we reach) al-Madinah.' When Reached al-Madinah, I prepared it, and brought it to him, and he said: O Hadrat Bilal, give him its price,' When I turned to leave, he called me back, and I was afraid that he would give it back at he said: 'It is yours
Urdu Translation
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے آ ملے اور میں ہمارے ایک خراب اونٹ پر سوار تھا۔ میں نے کہا: ہمارے پاس ہمیشہ خراب اونٹ ہی رہے گا، افسوس! تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت جابر! اسے مجھے بیچو گے؟ میں نے عرض کیا: بلکہ یہ آپ کا ہے یا رسول اللہ! فرمایا: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ میں نے اسے اتنے اتنے میں لے لیا ہے اور مدینہ تک اس کی سواری تمہیں عاریتاً دی۔ جب میں مدینہ پہنچا تو اونٹ تیار کر کے آپ کے پاس لے گیا۔ آپ نے فرمایا: اے حضرت بلال! اسے اس کی قیمت دے دو۔ جب میں واپس مڑا تو آپ نے مجھے بلایا، مجھے ڈر ہوا کہ آپ اونٹ واپس کر دیں گے۔ لیکن آپ نے فرمایا: وہ (اونٹ) بھی تمہارا ہے۔
