Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي شَاذَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أَخُو عَبْدَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ فَكَسَرَ يَدَهَا وَهِيَ جَمِيلَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ فَأَتَى أَخُوهَا يَشْتَكِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ " خُذِ الَّذِي لَهَا عَلَيْكَ وَخَلِّ سَبِيلَهَا " . قَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَتَرَبَّصَ حَيْضَةً وَاحِدَةً فَتَلْحَقَ بِأَهْلِهَا .
English Translation
Hadrat Ar-Rubayy' bint Mu'awwidh bin 'Afra' (may Allah be well pleased with him) narrated that Thabit bin Qais bin Shammas hit his wife and broke her arm --her name was Jamilah bint 'Abdullah bin Ubayy. Her brother came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to complain about him, and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent for Thabit and said: "Take what she owes you and let her go." He said: "Yes." And the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ordered her to wait for one menstrual cycle and then go to her family
Urdu Translation
حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو مارا اور ( ایسی مار ماری کہ ) اس کا ہاتھ ( ہی ) توڑ دیا۔ وہ عورت عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ تھی، اس کا بھائی اس کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ثابت بن قیس کو بلا بھیجا ( جب وہ آئے تو ) آپ نے ان سے فرمایا: ”تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو“ ۱؎ انہوں نے کہا: اچھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ( یعنی عورت جمیلہ کو ) حکم دیا کہ ایک حیض کی عدت گزار کر اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۲؎۔
