Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً " . فَضَاقَتْ بِذَلِكَ صُدُورُنَا وَكَبُرَ عَلَيْنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا فَلَوْلاَ الْهَدْىُ الَّذِي مَعِي لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُونَ " . فَأَحْلَلْنَا حَتَّى وَطِئْنَا النِّسَاءَ وَفَعَلْنَا مَا يَفْعَلُ الْحَلاَلُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَجَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ .
English Translation
It is narrated that Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) said: "We came with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on the fourth day of Dhul-Hijjah. The prophet said: 'Exit Ihram and make it Umrah.' We were distressed and upset by that. News of that reached the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and he said: 'O people, exit Ihram. Were if not for the Hadi that I brought with me, I would have done what you are doing.' So we exited Ihram, and had intercourse with our wives, ad we did everything that the non-Muhrim does until the day of At-Tarwiyah, when we put Makkah behind us (When we headed for Mina) and entered Ihram for Hajj
Urdu Translation
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ( مکہ ) آئے تو ذی الحجہ کی چار تاریخیں گزر چکی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”احرام کھول ڈالو اور اسے عمرہ بنا لو“، اس سے ہمارے سینے تنگ ہو گئے، اور ہمیں یہ بات شاق گزری۔ اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”لوگو! حلال ہو جاؤ ( احرام کھول دو ) اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو تم لوگ کر رہے ہو“، تو ہم نے احرام کھول دئیے، یہاں تک کہ ہم نے اپنی عورتوں سے صحبت کی، اور وہ سارے کام کئے جو غیر محرم کرتا ہے یہاں تک کہ یوم ترویہ یعنی آٹھویں تاریخ آئی، تو ہم مکہ کی طرف پشت کر کے حج کا تلبیہ پکارنے لگے ( اور منیٰ کی طرف چل پڑے ) ۔
