Arabic (Original)
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا خَلَف بن خَليفة، عن حُميد الأعرج، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"يومَ كَلَّمَ اللهُ موسى كان عليه جُبَّةُ صوفٍ، وسراويلُ صوفٍ، وكُمَّةُ صوفٍ، وكِساءُ صوفٍ، ونَعلانِ من جلدِ حمارٍ غيرِ ذكيٍّ"(1). قد اتفقا جميعًا على الاحتجاج بحديث سعيد بن منصور، وحُميدٌ هذا ليس بابن قيس الأعرج، قال البخاري في"التاريخ": حميد بن علي الأعرج الكوفي مُنكَر الحديث، وعبد الله بن الحارث النَّجْراني مُحتَجٌّ به(2)، واحتجَّ مسلم وحده بخلف بن خليفة، وهذا حديث كبير في التصوف والتكليم(3)، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث إسماعيل بن عيَّاش:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 76 - حميد هذا ليس بابن قيس
English Translation
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "On the day Allah spoke to Musa (Moses), he was wearing a woolen cloak, woolen trousers, a woolen cap, a woolen shawl, and sandals made from the skin of an un-slaughtered donkey." Al-Hakim noted that this is an important hadith regarding asceticism and Divine speech.
Urdu Translation
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا، اس وقت وہ اون کا جبہ، اون کی شلوار، اون کی ٹوپی، اون کی چادر پہنے ہوئے تھے اور ان کے جوتے گدھے کی ایسی کھال کے تھے جو (شرعی طریقے سے) دباغت شدہ نہیں تھی۔“امام بخاری و مسلم دونوں نے سعید بن منصور کی حدیث سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہاں حمید نامی راوی حمید بن قیس الاعرج نہیں ہیں بلکہ امام بخاری نے”التاريخ“میں کہا ہے کہ حمید بن علی الاعرج الکوفی منکر الحدیث ہے، جبکہ عبداللہ بن حارث نجرانی سے احتجاج کیا جاتا ہے، اور امام مسلم نے اکیلے خلف بن خلیفہ سے احتجاج کیا ہے، اور یہ تصوف اور کلامِ الٰہی کے موضوع پر ایک اہم حدیث ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کے لیے اسماعیل بن عیاش کی حدیث سے ایک شاہد بھی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 76]
