Arabic (Original)
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثني أَبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا يزيد بن المِقْدام بن شُرَيح بن هانئ، عن المِقدام، عن أبيه شُرَيح بن هانئ، عن هانئ: أنه لمّا وَفَدَ على رسول الله ﷺ، قال: يا رسول الله، أيُّ شيءٍ يُوجِبُ الجنةَ؟ قال:"عليك بحُسْنِ الكلام، وبَذْلِ الطعام"(3).هذا حديث مستقيم، وليس له عِلَّة ولم يُخرجاه، والعِلَّة عندهما فيه أنَّ هانئ بن يزيد ليس له راوٍ غيرُ ابنه شُريح، وقد قدَّمتُ الشرطَ في أول هذا الكتاب: أنَّ الصحابي المعروف إذا لم نَجِدْ له راويًا غيرَ تابعي واحد معروف، احتججنا به، وصحَّحنا حديثه، إذ هو صحيح على شرطهما جميعًا، فإنَّ البخاري قد احتجَّ بحديث قيس بن أبي حازم عن مِرْداس الأسلمي عن النبي ﷺ:"يذهبُ الصالحون"(1)، واحتجَّ بحديث قيس عن عَدِيِّ بن عَمِيرةَ عن النبي ﷺ:"مَن استعملناه على عملٍ"(2)، وليس لهما راوٍ غير قيس بن أبي حازم، وكذلك مسلمٌ قد احتجَّ بأحاديث أبي مالك الأشجعي عن أبيه، وأحاديث مَجْزَأة بن زاهر الأسلمي عن أبيه(3)، فلَزِمَهما جميعًا على شرطهما الاحتجاجُ بحديث شُريح بن هانئ عن أبيه، فإنَّ المقدام وأباه شُريحًا من أكابر التابعين، وقد كان هانئُ بن يزيد وَفَدَ على رسول الله ﷺ:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 61 - صحيح وليس له علة
English Translation
Hani' (may Allah be pleased with him) narrated that when he came as a delegate to the Messenger of Allah (peace be upon him), he asked: "O Messenger of Allah, what makes Paradise obligatory?" He said: "You must speak well and offer food generously." Al-Hakim graded it sound with no defect.
Urdu Translation
سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی بارگاہ میں وفد کی صورت میں آئے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سی چیز جنت کو واجب کر دیتی ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم پر لازم ہے کہ گفتگو میں عمدگی اختیار کرو اور کھانا کھلاؤ۔“یہ ایک درست حدیث ہے جس میں کوئی علت نہیں اور ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی، ان کے نزدیک اس میں علت یہ ہے کہ ہانی بن یزید سے ان کے بیٹے شریح کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں، حالانکہ میں اس کتاب کے آغاز میں یہ شرط بیان کر چکا ہوں کہ جب معروف صحابی کا صرف ایک معروف تابعی راوی ہو تو ہم اس سے احتجاج کریں گے اور اس کی حدیث کو صحیح قرار دیں گے کیونکہ یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے، امام بخاری نے قیس بن ابی حازم عن مرداس الاسلمی اور قیس عن عدی بن عمیرہ کی روایات سے احتجاج کیا ہے جبکہ ان کا قیس کے سوا کوئی راوی نہیں، اسی طرح امام مسلم نے ابومالک اشجعی اور مجزاۃ بن زاہر کی اپنے اپنے والد سے روایات پر احتجاج کیا ہے، لہٰذا ان کے اپنے اصول کے مطابق شریح بن ہانی عن ابیہ کی روایت سے احتجاج لازم آتا ہے کیونکہ مقدام اور ان کے والد شریح کبار تابعین میں سے ہیں، اور ہانی بن یزید رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی بارگاہ میں وفد لے کر آئے تھے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 61]
