Arabic (Original)
أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل العَنبَري، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن ابن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا أذنبَ العبدُ نُكِتَ في قلبه نُكْتةٌ سوداءُ، فإن تاب صُقِلَ منها، فإن عاد زادت حتى تَعظُمَ في قلبه، فذاكَ الرَّانُ الذي ذَكَره الله ﷿ ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾[المطففين: 14]"(1).هذا حديث(2)لم يخرج في"الصحيحين"، وقد احتجَّ مسلم بأحاديثَ للقعقاع بن حَكيم عن أبي صالح.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 6 - سكت عنه الذهبي في التلخيص في هذا الموضع
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When a servant commits a sin, a black spot is placed on his heart. If he repents, it is polished away. But if he returns to sin, it increases until it overwhelms his heart. That is the 'ran' (covering) that Allah mentioned: 'Nay, but what they used to earn has covered their hearts' [Al-Mutaffifin: 14]."
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو وہ نکتہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل پر غالب آ جاتا ہے، پس یہی وہ«ران»(زنگ) ہے جس کا ذکر اللہ عزوجل نے فرمایا ہے:﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾”ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر (ان کے برے اعمال کا) زنگ چڑھ گیا ہے۔“[سورة المطففين: 14]“یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج”صحیحین“میں نہیں کی گئی، حالانکہ امام مسلم نے قعقاع بن حکیم عن ابی صالح کی احادیث سے احتجاج کیا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 6]
