Arabic (Original)
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الفقيه، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا يحيى بن مَعِين. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن نَجْدة، حدثنا سعيد بن منصور؛ قالوا: حدثنا هُشَيم، عن داود بن أبي هند، عن أبي حرب بن أبي الأسود، عن فَضَالة اللَّيثي قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلت: إني أريدُ الإسلامَ فعلِّمني شرائعَ من شرائعِ الإسلام، فذكر الصلاةَ وشهرَ رمضان ومواقيتَ الصلاة، فقلت: يا رسول الله، إنك تَذكُر ساعاتٍ أنا فيهن مشغولٌ، ولكن علِّمني جِماعًا من الكلام، قال:"إِنْ شُغِلتَ فلا تُشغَلْ عن العصرَينِ" قلت: وما العصرانِ؟ ولم تكن لغةَ قومي، قال:"الفجرُ والعصرُ"(1).هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وفيه ألفاظٌ لم يُخرجاها بإسناد آخر، وأكثرها فائدةً ذِكرُ شرائع الإسلام، فإنه في حديث عبد العزيز بن أبي رَوَّاد(1)عن علقمة بن مَرثَدٍ، عن يحيى بن يَعمَرَ، عن ابن عمر(2)، وليس من شَرْط واحدٍ منهما. وقد خُولِفَ هُشيم بن بَشير في هذا الإسناد عن داود بن أبي هند خلافًا لا يضرُّ الحديثَ، بل يزيده تأكيدًا:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 50 - على شرط مسلم
English Translation
Fadalah al-Laythi (may Allah be pleased with him) narrated: "I came to the Prophet (peace be upon him) and said: 'I wish to accept Islam, so teach me some of the laws of Islam.' He mentioned the prayer, the month of Ramadan, and the times of prayer. I said: 'O Messenger of Allah, you mention times when I am busy. Rather, teach me something comprehensive.' He said: 'If you are busy, then do not neglect the two 'Asrs (al-'Asrayn).' I asked: 'What are the two 'Asrs?' — for this was not a word used by my people. He said: 'The Fajr and the 'Asr prayers.'" Al-Hakim graded it sahih according to the criteria of Muslim.
Urdu Translation
سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں اسلام لانا چاہتا ہوں، پس مجھے اسلام کی کچھ شرائع (احکام) سکھا دیجیے، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے نماز، رمضان کے مہینے اور نماز کے اوقات کا ذکر فرمایا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ان اوقات کا ذکر فرما رہے ہیں جن میں، میں مصروف ہوتا ہوں، لہٰذا مجھے کوئی جامع بات سکھا دیجیے، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر تم مصروف بھی ہو تو ان دو عصروں (عصرین) سے غافل نہ ہونا۔“میں نے پوچھا: یہ ’عصرین‘ کیا ہیں؟ کیونکہ یہ میری قوم کی لغت نہ تھی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”فجر اور عصر۔“یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس میں ایسے الفاظ ہیں جنہیں انہوں نے دوسری اسناد سے بھی روایت نہیں کیا، اور ان میں سب سے زیادہ فائدہ مند بات اسلام کی شرائع کا ذکر ہے، کیونکہ یہ عبدالعزیز بن ابی رواد کی روایت میں علقمہ بن مرثد عن یحییٰ بن یعمر عن ابن عمر کے واسطے سے ہے، جو ان دونوں میں سے کسی کی شرط پر نہیں ہے۔ اور اس سند میں ہشیم بن بشیر کی داؤد بن ابی ہند سے روایت میں ایسا اختلاف کیا گیا ہے جو حدیث کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسے مزید تقویت دیتا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 50]
