Arabic (Original)
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرني ابن جُرَيج، أخبرني يونس بن يوسف، عن سليمان بن يَسَار قال: تفرَّق الناسُ عن أبي هريرة، فقال له ناتِلٌ أخو أهل الشام: يا أبا هريرة، حدِّثنا حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ أولَ الناس يُقضَى فيه يومَ القيامة ثلاثةٌ: رجلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ به فعرَّفه نِعَمَه فَعَرَفَهَا، فقال: ما عملتَ فيها؟ قال: قاتلتُ في سبيلِك حتى استُشهِدتُ، قال: كذبتَ، إنما أردتَ أن يقال: فلانٌ جريءٌ، فقد قيل، فيُؤمَرُ به فيُسحَبُ على وجهه حتى أُلقيَ في النار. ورجلٌ تعلَّم العلمَ وقرأ القرآنَ، فأُتيَ به فعرَّفه نِعمَه فعَرَفَها، فقال: ما عملتَ فيها؟ قال: تعلَّمتُ العلمَ وقرأتُ القرآن وعلَّمتُه فيك، قال: كذبتَ، إنما أردتَ أن يقال: فلانٌ عالمٌ، وفلانٌ قارئٌ، فقد قيل، فأُمِرَ به فسُحِبَ على وجهه حتى أُلقيَ في النار. ورجلٌ آتاه الله من أنواع المال، فأُتيَ به فعرَّفه نِعمَه فعَرَفَها، فقال: ما عملتَ فيها؟ قال: ما تركتُ من شيء تحبُّ أن أُنفِقَ فيه إلّا أنفقتُ فيه لك، قال: كذبتَ، إنما أردتَ أن يقال: فلانٌ جَوَاد، فقد قيل، فأُمِرَ به فسُحِبَ على وجهه حتى أُلقيَ في النار"(1).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّيَاقة، ويونس بن يوسف: هو ابن عمرو بن حِمَاس الذي يروي عنه مالك بن أنس في"الموطأ"، ومالكٌ الحَكَم في كلِّ من رَوَى عنه، وقد خرَّجه مسلم.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 364 - على شرطهما ولم يخرجاه بهذه السياقة
English Translation
Sulayman ibn Yasar narrated: People dispersed from Abu Hurayrah, and Natil, a man from the people of Syria, said to him: "O Abu Hurayrah, narrate to us a hadith you heard from the Messenger of Allah (peace be upon him)." He said: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "The first people to be judged on the Day of Resurrection will be three: A man who was martyred — he will be brought and Allah will remind him of His blessings and he will recognize them. Allah will say: 'What did you do with them?' He will say: 'I fought in Your cause until I was martyred.' Allah will say: 'You lie. You fought so it would be said that so-and-so is brave, and it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face and thrown into the Fire. A man who acquired knowledge and recited the Qur'an — he will be brought and reminded of the blessings, and he will recognize them. Allah will say: 'What did you do with them?' He will say: 'I acquired knowledge and recited the Qur'an and taught it for Your sake.' Allah will say: 'You lie. You learned so it would be said that so-and-so is a scholar, and you recited so it would be said that so-and-so is a reciter, and it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face and thrown into the Fire. A man whom Allah blessed with various kinds of wealth — he will be brought and reminded of the blessings, and he will recognize them. Allah will say: 'What did you do with them?' He will say: 'I did not leave any cause that You love for me to spend on except that I spent on it for Your sake.' Allah will say: 'You lie. You spent so it would be said that so-and-so is generous, and it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face and thrown into the Fire."
Urdu Translation
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے منتشر ہوئے، تو اہل شام کے ایک فرد ناتل نے عرض کیا: اے ابوہریرہ! ہمیں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:”قیامت کے دن جن لوگوں کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ تین ہوں گے: ایک وہ شخص جو شہید ہوا، اسے لایا جائے گا تو اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ پوچھے گا: تم نے ان نعمتوں کے بدلے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ بولا، تم نے تو اس لیے قتال کیا تھا تاکہ کہا جائے کہ فلاں بڑا بہادر ہے، اور وہ کہا جا چکا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص جس نے علم حاصل کیا، قرآن پڑھا اور دوسروں کو سکھایا، اسے لایا جائے گا اور اللہ اپنی نعمتیں پہچنوائے گا تو وہ پہچان لے گا، اللہ پوچھے گا: تم نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم حاصل کیا، قرآن پڑھا اور تیری رضا کے لیے اسے دوسروں کو سکھایا، اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ بولا، تم نے تو اس لیے علم حاصل کیا تھا کہ تمہیں عالم کہا جائے اور اس لیے قرآن پڑھا کہ تمہیں قاری کہا جائے، اور وہ کہا جا چکا، پھر حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ تیسرا وہ شخص جسے اللہ نے ہر طرح کے مال سے نوازا تھا، اسے لایا جائے گا اور نعمتیں یاد دلائی جائیں گی تو وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ پوچھے گا: تم نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں خرچ کرنا تجھے پسند ہو مگر وہاں صرف تیری رضا کے لیے خرچ کیا، اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ بولا، تم نے تو اس لیے خرچ کیا تھا تاکہ تمہیں سخی کہا جائے، اور وہ کہا جا چکا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور یونس بن یوسف وہی ابن عمرو بن حماس ہیں جن سے امام مالک نے موطا میں روایت لی ہے، اور امام مسلم نے بھی ان سے تخریج کی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 369]
