Arabic (Original)
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عبد الرحمن بن سلمان، عن عُقَيل بن خالد، عن عَمْرو بن شعيب، أنَّ شعيبًا حدَّثه ومجاهد، أنَّ عبد الله بن عمرو حدَّثهم أنه قال: يا رسول الله، أكتبُ ما أسمَعُ منك؟ قال:"نعم" قلت: عند الغضب وعند الرِّضا؟ قال:"نَعَم، إنه لا يَنبَغي لي أن أقولَ إلّا حقًّا"(1). فليَعلَمْ طالبُ هذا العلم أنَّ أحدًا لم يتكلَّم قَطُّ في عمرو بن شعيب(2)، وإنما تكلَّم مسلم في سماع شعيب من عبد الله بن عمرو، فإذا جاء الحديث عن عمرو بن شعيب عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو، فإنه صحيح، على أني إنما ذكرتُه شاهدًا لحديث عبد الواحد بن قيس. وقد رُوِيَ هذا الحديث بعَيْنه عن يوسف بن ماهَكَ:
English Translation
Abdullah ibn Amr narrated that he said: "O Messenger of Allah, shall I write what I hear from you?" He said: "Yes." I said: "In times of anger and pleasure?" He said: "Yes, for it is not fitting for me to say anything but the truth." Al-Hakim noted: No one has ever criticized Amr ibn Shu'ayb. Muslim only questioned whether Shu'ayb heard directly from Abdullah ibn Amr, so when the hadith comes through Mujahid from Abdullah ibn Amr, it is sound.
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں وہ سب کچھ لکھ لیا کروں جو آپ سے سنتا ہوں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں۔“میں نے عرض کیا: غصے کی حالت میں بھی اور خوشی کی حالت میں بھی؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں، کیونکہ میرے لیے حق کے سوا کچھ کہنا مناسب ہی نہیں ہے۔“علمِ حدیث کے طالب علم کو یہ جان لینا چاہیے کہ کسی نے بھی عمرو بن شعیب پر کبھی کلام نہیں کیا، امام مسلم نے صرف شعیب کے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماع پر کلام کیا ہے، لیکن جب یہ روایت مجاہد کے واسطے سے آئے تو یہ صحیح ہے، اور میں نے اسے عبدالواحد بن قیس کی حدیث کے شاہد کے طور پر ذکر کیا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 363]
