Arabic (Original)
أخبرَناه أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن أيوب، عن بكر بن عَمْرو، عن عَمرو بن أبي نُعَيمة رَضِيع عبد الملك بن مروان - وكان امْرأَ صِدقٍ - عن مسلم بن يَسَار قال: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"مَن قال عليَّ ما لم أَقُلْ، فليتبوَّأْ ببِناءٍ في جهنَّم، ومن أُفتيَ بغير علمٍ، كان إثمُه على مَن أفتاه، ومَن أشار على أخيه بأمرٍ يَعلَمُ أَنَّ الرُّشدَ في غيره، فقد خانه"(1).هذا حديث قد احتجَّ الشيخان برواته غير عمرٍو هذا(2)، وقد وثَّقه بكر بن عمرو المَعافِري، وهو أحد أئمَّة أهل مصر، والحاجةُ بنا إلى لفظة التثبّت في الفتيا شديدة.
English Translation
Muslim ibn Yasar narrated: I heard Abu Hurayrah say that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever attributes to me what I did not say, let him prepare his place in Hellfire. Whoever is given a verdict without proper knowledge, the sin is upon the one who gave the verdict. And whoever advises his brother on a matter while knowing that the right course is otherwise, he has betrayed him."
Urdu Translation
مسلم بن یسار سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس نے مجھ پر وہ بات کہی جو میں نے نہیں کہی تو وہ جہنم میں اپنے ٹھکانے کی تیاری کر لے، اور جسے بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے، اور جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے معاملے میں مشورہ دیا جبکہ وہ جانتا تھا کہ بھلائی اس کے علاوہ (کسی اور بات) میں ہے تو اس نے اس سے خیانت کی۔“شیخین نے عمرو (بن ابی نعیمہ) کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور اسے بصرہ کے اماموں میں سے ایک بگر بن عمرو معافری نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ہمیں فتویٰ کے معاملے میں تحقیق و تثبت کے لفظ کی اشد ضرورت ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 355]
