Arabic (Original)
حدثنا جعفر بن محمد بن نُصَير إملاءً ببغداد، حدثنا القاسم بن محمد ابن حمَّاد، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثني محمد بن ثَوْر، حدثنا ابن جُرَيج قال: جاء الأعمشُ إلى عطاءٍ فسأله عن حديثٍ فحدَّثه، فقلنا له: تحدِّثُ هذا وهو عراقيٌّ؟ قال: لأني سمعت أبا هريرة يحدِّث عن النبي ﷺ قال:"مَن سُئِلَ عن علمٍ فكَتَمَه، جِيءَ به يومَ القيامة وقد أُلجِمَ بلِجَامٍ من نار"(1).هذا حديث تداوَلَه الناسُ بأسانيدَ كثيرة تُجمَعُ ويُذاكَرُ بها، وهذا الإسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 344 - على شرطهما
English Translation
Ibn Jurayj narrated: Al-A'mash came to 'Ata' and asked him about a hadith, and 'Ata' narrated it to him. We said to 'Ata': "You narrate this to him although he is an Iraqi?" He said: "Because I heard Abu Hurayrah narrate from the Prophet (peace be upon him) who said: 'Whoever is asked about knowledge and conceals it, he will be brought on the Day of Resurrection bridled with a bridle of fire.'" Al-Hakim said: This hadith has been transmitted through many chains; this particular chain is sound according to the conditions of the two Shaykhs, though they did not include it.
Urdu Translation
ابن جریج سے روایت ہے کہ امام اعمش، عطاء (بن ابی رباح) کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے وہ حدیث بیان کر دی؛ ہم نے عطاء سے کہا کہ آپ یہ حدیث انہیں بیان کر رہے ہیں حالانکہ وہ عراقی ہیں؟ (اس وقت مکی اور عراقی محدثین میں رقابت تھی)؛ عطاء نے فرمایا: کیونکہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ:”جس سے کسی ایسے علم کے بارے میں پوچھا گیا (جس کی لوگوں کو ضرورت ہو) اور اس نے اسے چھپا لیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنا کر لایا جائے گا۔“یہ وہ حدیث ہے جو لوگوں میں کثرت کے ساتھ مختلف اسناد سے مشہور ہے، اور یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 348]
