Arabic (Original)
أخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن عَمرو بن مُرَّة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ابن لَبِيد الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ:"هذا أوانُ ذهابِ العِلْم" - قال شعبة: أو قال:"أوانُ انقطاع العِلْم" - قالوا: كَيفَهْ وفينا كتابُ الله نعلِّمُه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤُنا أبناءَهم؟ قال:"ثَكِلَتكَ أمُّك ابنَ لَبيدٍ، ما كنتُ أحسَبُك إلَّا من أعقلِ أهلِ المدينة، أليس اليهودُ والنصارى فيهم كتابُ الله التوراةُ والإنجيلُ لم يَنتفِعوا منه بشيءٍ"(1). قد ثَبَتَ الحديثُ بلا ريبٍ فيه برواية زياد بن لَبِيد بمثل هذا الإسناد الواضح.
English Translation
Ziyad ibn Labid al-Ansari narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "This is the time of the departure of knowledge" — Shu'bah said: or he said: "the time of the cessation of knowledge." They said: "How so, when we have the Book of Allah which we teach our children, and our children teach their children?" He said: "May your mother lose you, O Ibn Labid! I did not think you were anything but among the most intelligent people of Madinah. Are not the Torah and Gospel in the hands of the Jews and Christians, yet they derive no benefit from them?"
Urdu Translation
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ علم کے چلے جانے کا وقت ہے“(شعبہ کہتے ہیں کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”علم کے منقطع ہونے کا وقت ہے“) صحابہ نے عرض کیا: وہ کیسے؟ جبکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے، ہم اسے اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں؛ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے ابن لبید! تمہاری ماں تم پر روئے، میرا تو یہ خیال تھا کہ تم اہل مدینہ کے سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے ہو، کیا یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس اللہ کی کتاب تورات اور انجیل موجود نہیں؟ لیکن انہوں نے اس سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا۔“زیاد بن لبید کی اس واضح سند کے ساتھ یہ حدیث بلاشبہ ثابت ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 343]
