Arabic (Original)
حدثناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثني النُّعمان بن المنذر، عن مكحول قال: وَجِعَ معاذُ بن جبل يومًا وعنده يزيد بن عَمِيرة الزُّبيدي، فبكى عليه يزيدُ، فقال له معاذ: ما يُبكِيكَ؟ قال: يُبكِيني ما كنتُ أسألُك كلَّ يومٍ، يَنقطِعُ عني، فقال معاذ: إنَّ العلم والإيمان بَشَاشَتان، قُمْ فالتمِسْهما، قال يزيد: وعندَ مَن أَلتمسُهما؟ فقال معاذ: عند أربعةِ نفرٍ عند عُويمِر أبي الدرداء، وعند عبد الله بن مسعود، وعند سلمان الفارسي، وعند عبد الله بن سَلَام، فإنه كان يقال:"إنه عاشرُ عَشَرةٍ في الجنة"، قال يزيد: فقلت: وعند عمر بن الخَطَّاب؟ فقال: لا تَسألْه عن شيء، فإنه عنك مشغول(2). وقد روى الزُّهْريُّ عن أبي إدريسَ طَرَفًا من هذا الحديث:
English Translation
Makhul reported: Mu'adh ibn Jabal fell ill one day while Yazid ibn 'Amirah al-Zubaydi was with him. Yazid wept, so Mu'adh asked: "Why do you weep?" He said: "I weep because of the knowledge I used to ask you about every day, which will now be cut off from me." Mu'adh said: "Indeed, knowledge and faith are a source of joy. Go and seek them." Yazid asked: "From whom shall I seek them?" Mu'adh said: "From four people: from Uwaymir Abu al-Darda', from Abdullah ibn Mas'ud, from Salman al-Farisi, and from Abdullah ibn Salam, for it used to be said: 'He is the tenth of ten in Paradise.'" Yazid said: "And from Umar ibn al-Khattab?" Mu'adh said: "Do not ask him about anything, for he is too busy with your affairs (the caliphate)."
Urdu Translation
مکحول بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک دن بیمار ہوئے جبکہ ان کے پاس یزید بن عمیرہ زبیدی موجود تھے، یزید ان کی حالت دیکھ کر رونے لگے، معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے کہا: میں اس علم کے منقطع ہونے پر رو رہا ہوں جو میں آپ سے روزانہ حاصل کیا کرتا تھا، معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم اور ایمان تو خوشبو کی طرح ہیں، اٹھو اور انہیں تلاش کرو، یزید نے پوچھا: میں انہیں کن کے پاس تلاش کروں؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چار افراد کے پاس؛ عویمر ابو الدرداء، عبداللہ بن مسعود، سلمان فارسی اور عبداللہ بن سلام کے پاس، کیونکہ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ”وہ جنت کے دس خوش نصیبوں میں سے دسویں ہیں۔“یزید نے پوچھا: اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ؟ انہوں نے کہا: ان سے کسی چیز کے بارے میں (اب) سوال نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے کاموں (خلافت کی ذمہ داریوں) میں مصروف ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 339]
