Arabic (Original)
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن أبي داود المُنادِي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا كَهمَس بن الحسن، عن عبد الله بن شَقِيق قال: جاء أبو هريرة إلى كعبٍ يَسأَل عنه وكعبٌ في القوم، فقال كعب: ما تريدُ منه؟ فقال: أمَا إني لا أعرفُ أحدًا من أصحاب رسول الله ﷺ يكون أحفظَ لحديثه منِّي، فقال كعب: أمَا إنك لم تَجِدْ أحدًا يَطلُبُ شيئًا إلّا سيَشبَعُ منه يومًا من الدهر إلّا طالبَ علمٍ، وطالبَ دنيا، فقال: أنت كعب، فإني لِمثْل هذا جئتُ(2).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وقولُ الصحابي: إني لحديثِ رسول الله ﷺ أحفظُ من غيري، يُخرَّج في مسانيده.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 313 - فيه انقطاع
English Translation
Abdullah ibn Shaqiq reported: Abu Hurayrah came looking for Ka'b (al-Ahbar), and Ka'b was sitting among the people. Ka'b asked: "What do you want from him?" Abu Hurayrah said: "Know that I do not know anyone among the Companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) who has memorized more of his hadith than I have." Ka'b replied: "Know that you will not find anyone who seeks something without eventually becoming satiated with it, except the seeker of knowledge and the seeker of worldly things." Abu Hurayrah said: "You must be Ka'b! It is precisely for insights like this that I came."
Urdu Translation
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کعب (احبار) کے پاس آئے اور ان کے بارے میں دریافت کیا جبکہ کعب اسی مجلس میں موجود تھے، کعب نے پوچھا: آپ ان سے کیا چاہتے ہیں؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”آگاہ رہو کہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے اصحاب میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو مجھ سے زیادہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکی احادیث کو یاد رکھنے والا ہو۔“کعب نے جواب دیا:”سنئے! آپ کسی بھی چیز کے طلبگار کو ایسا نہیں پائیں گے جو کسی نہ کسی دن اس سے اکتا نہ جائے سوائے علم کے طالب اور دنیا کے طالب کے۔“ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”آپ ہی کعب ہیں (جو اتنی گہری بات کر رہے ہیں)، میں ایسی ہی باتوں (کی تصدیق) کے لیے آیا تھا۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور کسی صحابی کا یہ کہنا کہ”میں دوسرے سے زیادہ حدیث یاد رکھنے والا ہوں“، ان کی مسانید میں ذکر کیا جاتا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 317]
