Arabic (Original)
حدَّثَناه أبو حفص عمر بن محمد الجُمَحي بمكة في دار أبي بكر الصِّدّيق، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا إسحاق بن إسماعيل، حدثنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن محارِب بن دِثَار، عن ابن عمر قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، أيُّ البِقاع خيرٌ؟ فقال:"لا أدري" فقال: أيُّ البقاع شرٌّ؟ فقال:"لا أدري" فقال: سَلْ ربَّك، قال: فلمّا نزل جبريل قال رسول الله ﷺ:"إني سُئِلتُ: أيُّ البقاع خيرٌ؟ وأيُّ البقاع شرٌّ؟ فقلت: لا أدري، فقال جبريل: وأنا لا أدري حتى أسألَ ربي"، قال: فانتفَضَ جبريلُ انتفاضةً كادَ أن يَصعَقَ منها محمدٌ ﷺ، فقال الله:"يا جبريل يسألُك محمدٌ: أيُّ البقاع خيرٌ؟ فقلتَ: لا أدري، فسألك: أيُّ البقاع شرٌّ؟ فقلتَ: لا أدري، وإنَّ خيرَ البقاعِ المساجدُ، وشرَّ البقاعِ الأسواقُ"(1).
English Translation
Ibn Umar narrated: A man came to the Prophet (peace be upon him) and asked: "O Messenger of Allah, which places are the best?" He said: "I do not know." Then he asked: "Which places are the worst?" He said: "I do not know. Ask your Lord." When Jibril descended, the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I was asked which places are the best and which are the worst, and I said I do not know." Jibril said: "And I do not know, until I ask my Lord." Then Jibril shuddered so intensely that Muhammad (peace be upon him) nearly fainted from it. Allah said: "O Jibril, Muhammad asks you which places are the best, and you said you do not know, and he asks which places are the worst, and you said you do not know. Indeed, the best places are the mosques, and the worst places are the marketplaces."
Urdu Translation
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! زمین کا کون سا ٹکڑا بہترین ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھے نہیں معلوم“، اس نے پوچھا: کون سا حصہ بدترین ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھے معلوم نہیں“، اس نے کہا: اپنے رب سے دریافت فرمائیے؛ پس جب جبریل علیہ السلام نازل ہوئے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھ سے پوچھا گیا ہے کہ کون سا مقام بہترین ہے اور کون سا بدترین؟ تو میں نے کہا کہ مجھے علم نہیں“، جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: اور مجھے بھی علم نہیں یہاں تک کہ میں اپنے رب سے پوچھ لوں؛ راوی کہتے ہیں کہ اس وقت جبریل علیہ السلام اس طرح کانپے کہ قریب تھا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلمبے ہوش ہو جاتے، پھر اللہ نے فرمایا:”اے جبریل! محمد آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ بہترین جگہ کون سی ہے؟ اور آپ نے کہا کہ مجھے علم نہیں، پھر انہوں نے پوچھا کہ بدترین جگہ کون سی ہے؟ تو آپ نے کہا کہ مجھے علم نہیں؛ (سنو!) بہترین مقامات مساجد ہیں اور بدترین مقامات بازار ہیں۔“اس حدیث کا ایک اور شاہد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے موجود ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 310]
