Arabic (Original)
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن أحمد بن أنس القُرَشي، حدثنا حفص بن عبد الله السَّلَمي، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن شُعْبة بن الحجَّاج، عن قتادة، عن أنس بن مالك أنه قال: قال رسول الله ﷺ:"دُفِعتُ إلى السِّدْرة، فإذا أربعةُ أنهار: نهران ظاهران، ونهران باطنان، فأمَّا الظاهران فالنِّيلُ والفُرات، وأما الباطنانِ: فنهرانِ في الجنة، وأُتِيتُ بثلاثة أقداح: قَدَحٌ فيه لبن، وقَدحٌ فيه عسل، وقدحٌ فيه خمر، فأخذتُ الذي فيه اللبنُ فشربتُ، فقيل لي: أصبتَ الفِطْرةَ أنت وأمَّتُك"(2). قال الحاكم أبو عبد الله: قلتُ لشيخنا أبي عبد الله: لمَ لمْ يُخرجا هذا الحديث؟ فقال: لأنَّ أنس بن مالك لم يَسمَعْه من النبي ﷺ، إنما سمعه من مالك بن صَعْصَعةَ. قال الحاكم: ثم نظرتُ فإذا الأحرفُ التي سمعها من مالك بن صعصعة غيرُ هذه، وليَعلَمْ طالبُ هذا العلم: أنَّ حديث المِعْراج قد سمع أنسٌ بعضَه من النبي ﷺ، وبعضَه من أبي ذرٍّ الغِفاري، وبعضَه من مالك بن صَعْصعةَ، وبعضَه من أبي هريرة(1).
English Translation
Anas ibn Malik narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I was taken to the Lote Tree (Sidrat al-Muntaha), and there were four rivers: two visible and two hidden. The visible ones are the Nile and the Euphrates, and the hidden ones are two rivers in Paradise. I was given three cups: one with milk, one with honey, and one with wine. I took the one with milk and drank it. It was said to me: 'You have found the fitrah (natural disposition) — you and your Ummah.'"
Urdu Translation
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا، تو وہاں چار نہریں تھیں: دو ظاہر اور دو پوشیدہ، ظاہر نہریں نیل اور فرات ہیں اور پوشیدہ نہریں جنت کی دو نہریں ہیں۔ وہاں میرے پاس تین پیالے لائے گئے: ایک دودھ کا، ایک شہد کا اور ایک شراب کا، میں نے وہ پیالہ لیا جس میں دودھ تھا اور اسے پی لیا، تو مجھ سے کہا گیا: آپ نے اور آپ کی امت نے فطرت کو پا لیا۔“امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ سے پوچھا کہ شیخین نے اسے روایت کیوں نہیں کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اسے براہ راست نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے نہیں بلکہ مالک بن صعصعہ سے سنا تھا۔ میں (حاکم) کہتا ہوں کہ میں نے غور کیا تو وہ الفاظ جو انہوں نے مالک بن صعصعہ سے سنے وہ اس سے مختلف ہیں، اور طالب علم کو یہ جان لینا چاہیے کہ معراج کی حدیث کا کچھ حصہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبیصلی اللہ علیہ وسلمسے، کچھ ابوذر غفاری سے، کچھ مالک بن صعصعہ سے اور کچھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 275]
