Arabic (Original)
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثني محمد بن المثنَّى، حدثنا رَوْح بن أسلمَ، حدثنا شدَّاد أبو طَلْحة، حدثنا أبو الوازع جابر بن عمرو الرَّاسِبي قال: سمعت أبا بَرْزةَ يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"حوضي ما بينَ أَيْلةَ إلى صنعاء عَرْضُه كطولِه، فيه مِيزابانِ يَصُبّانِ من الجنة، أحدُهما وَرِقٌ والآخر ذهبٌ، أحلى من العسل، وأبردُ من الثلج، وأشدُّ بياضًا من اللبن، وألْيَنُ من الزُّبْد، فيه أباريقُ عددَ نجوم السماء، مَن شَرِبَ منه لم يَظمَأْ حتى يدخلَ الجنة"(1). قال(2): وزاد فيه أيوب عن أبي الوازع عن أبي بَرْزة عن النبي ﷺ أنه قال:"تَنزُو في أيدي المؤمنين".هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بحديثين عن أبي طلحة الراسبي عن أبي الوازع عن أبي بَرْزة، وهو غريب صحيح من حديث أيوب السَّختِياني عن أبي الوازع، ولم يُخرجاه.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 255 - غريب صحيح على شرط مسلم
English Translation
Abu Barzah narrated: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "My Pool (Hawd) extends from Aylah (Eilat) to San'a; its width is equal to its length. It has two spouts pouring from Paradise — one of silver and the other of gold. Its water is sweeter than honey, colder than snow, whiter than milk, and smoother than butter. Upon it are pitchers as numerous as the stars of the sky. Whoever drinks from it will never feel thirst until he enters Paradise."
Urdu Translation
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”میرا حوض اَیْلَہ سے صنعاء کے درمیانی فاصلے (جتنا وسیع) ہے، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، اس میں جنت سے دو پرنالے گرتے ہیں، ایک چاندی کا اور دوسرا سونے کا ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا، برف سے زیادہ ٹھنڈا، دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم ہے، اس پر آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر صراحیاں ہیں، جو اس میں سے پی لے گا اسے جنت میں داخل ہونے تک کبھی پیاس نہیں لگے گی۔“راوی کہتے ہیں کہ ایوب نے اس روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ:”وہ (جام) مومنوں کے ہاتھوں میں خود بخود اچھل کر آئیں گے۔“یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے ابوطلحہ راسبی کی دو احادیث سے احتجاج کیا ہے، اور ایوب سختیانی کی یہ روایت غریب اور صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 257]
