Arabic (Original)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيَّة، عن محمد بن إسحاق، عن عبد الواحد بن حمزة ابن(2)عبد الله بن الزُّبير، عن عبَّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول في بعض صلاته:"اللهم حاسِبني حسابًا يسيرًا"، فلما انصرف قلت: يا رسول الله، ما الحساب اليسيرُ؟ قال:"يُنظَرُ في كتابه ويُتَجاوَزُ عنه، إنه مَن نُوقِشَ الحساب يومئذٍ يا عائشةُ هَلَكَ، وكلُّ ما يصيبُ المؤمنَ يكفِّرُ(3)الله عنه، حتى الشوكةُ تَشُوكُه"(4).هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث ابن أبي مُليكة عن عائشة أنَّ رسول الله رسول الله ﷺ قال:"مَن نُوقِشَ الحِسابَ عُذِّبَ"(1).[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 190 - على شرط مسلم
English Translation
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) supplicating in some of his prayers: "O Allah, take my account with an easy reckoning." When he finished, I asked: "O Messenger of Allah, what is the easy reckoning?" He said: "That one's book of deeds be looked at and overlooked. O Aisha, whoever's account is scrutinized and questioned on that Day will be ruined. And whatever affliction befalls a believer, Allah makes it an expiation for his sins, even a thorn that pricks him."
Urdu Translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو اپنی بعض نمازوں میں یہ دعا کرتے سنا:”اے اللہ! میرا حساب بہت آسان فرما“، جب آپصلی اللہ علیہ وسلمنماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ کہ بندے کے نامہ اعمال کو دیکھ کر اس سے درگزر کر دیا جائے، اے عائشہ! جس کے حساب میں جرح اور چھان بین کی گئی وہ تو ہلاک ہو گیا، اور مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے“۔یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف«ابن ابي مليكه عن عائشه»کی روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس کے حساب میں جرح کی گئی اسے عذاب دیا گیا“۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 191]
