Arabic (Original)
لِمَا سمعتُ عليَّ بن عيسى يقول: سمعت الحسين بن محمد بن زياد يقول: حدثنا محمد بن رافع، حدثنا محمد بن بشر قال: حدَّثنيه عبيد الله بن عمر العُمَري، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن قال: جاء أعرابيٌّ إلى عمر فسأله عن الدِّين، فقال: يا أمير المؤمنين، علِّمني الدِّينَ، قال: تَشْهَدُ أن لا إله إلا الله وأنَّ محمدًا رسول الله، وتقيمُ الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصومُ رمضان، وتحجُّ البيت، وعليك بالعَلَانيَةِ، وإياك والسِّرَّ، وإياك وكلَّ شيءٍ يُستحيا منه، قال: فإِذا لَقِيتُ اللهَ قلتُ: أَمَرني بهذا عمرُ بن الخطَّاب فقال: يا عبد الله، خُذْ بهذا، فإِذا لَقِيتَ اللهَ فقل ما بدا لك(1). قال القبَّاني(2): قلت لمحمد بن يحيى: أيُّهما المحفوظُ: حديثُ يونس عن الحسن عن عمر، أو نافعٌ عن ابن عمر؟ فقال محمد بن يحيى: حديث الحسن أَشبَهُ. قال الحاكم: فرضي الله عن محمد بن يحيى، تَورَّع عن الجواب حَذَرًا لمخالفة قوله ﷺ:"دَعْ ما يريبكُ إلى ما لا يَرِيبكُ"(1)، ولو تأمَّل الحديثين لظَهَرَ له أنَّ الألفاظ مختلفة، وهما حديثان مُسنَدان وحكاية، ولا يُحفَظ لعبيد الله عن يونس بن عبيد غيرُ حديث الإمارة وقد تفرَّد به الدَّرَاوَرْدي(2)، وسعيد بن عبد الرحمن الجُمحي ثقة مأمون، وقد رواه عنه غيرُ محمد بن الصبَّاح، على أنَّ محمد بن الصباح أيضًا ثقة مأمون.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 166 - قيل أن هذا أشبه
English Translation
Al-Hasan al-Basri narrated that a Bedouin came to Umar (may Allah be pleased with him) and asked about the religion, saying: "O Commander of the Faithful! Teach me the religion." Umar said: "Bear witness that there is no deity except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, establish the prayer, give the zakah, fast Ramadan, and perform pilgrimage to the House. You must do good openly, and beware of doing evil in secret, and beware of everything that would bring you shame." The man said: "When I meet Allah, I will say: Umar ibn al-Khattab commanded me to do this." Umar replied: "Then do what I have told you."
Urdu Translation
حسن بصری سے روایت ہے کہ ایک اعرابی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور دین کے بارے میں سوال کیا: اے امیر المومنین! مجھے دین سکھائیے، انہوں نے فرمایا: تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو، اور تم پر لازم ہے کہ نیکی علانیہ کرو، اور چھپ کر (برائی) کرنے سے بچو، اور ہر اس کام سے بچو جس سے (لوگوں کے سامنے) شرمندگی اٹھانی پڑے۔ اس شخص نے کہا: جب میں اللہ سے ملوں گا تو کہوں گا کہ مجھے اس کا حکم عمر بن خطاب نے دیا تھا، تو انہوں نے فرمایا: اے اللہ کے بندے! اسے تھام لو، پھر جب تم اللہ سے ملو تو جو جی چاہے کہنا۔امام قبانی کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ سے پوچھا کہ ان میں سے کون سی روایت محفوظ ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ حسن کی روایت زیادہ مشابہ ہے۔امام حاکم فرماتے ہیں کہ محمد بن یحییٰ نے احتیاطاً جواب دیا، حالانکہ یہ دونوں الگ الگ مسند حدیثیں ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 167]
