Arabic (Original)
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا كثير بن زيد، عن سالم، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"لا ينبغي لمسلم أن يكونَ لعَانًا". قال سالمٌ: وما سمعتُ ابن عمر لَعَنَ شيئًا قطُّ"(3).هذا حديث أسنده جماعةٌ من الأئمة عن كثير بن زيد، ثم أوقَفَه عنه حمَّادُ بن زيد وحده(1)، فأما الشيخان فإنهما لم يخرجا عن كثير بن زيد، وهو شيخٌ من أهل المدينة من أسلم كنيتُه أبو محمد، لا أعرفه يُجرَحُ في الرواية، وإنما تركاه لقلَّة حديثه، والله أعلم. ولهذا الحديث شواهدُ بألفاظ مختلفة، عن أبي هريرة وأبي الدَّرداء وسَمُرةَ بن جُندُب يَصِحُّ بمثلها الحديثُ على شرط الشيخين. فأما حديث أبي هريرة:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 146 - أسنده عدة ووقفه حماد بن زيد فقط_x000D_ فَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ
English Translation
Ibn Umar narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "It is not befitting for a Muslim to be one who excessively curses others." Salim said: "I never heard Ibn Umar curse anything at all." This hadith has been narrated with a connected chain by a group of scholars through Kathir ibn Zayd, though Hammad ibn Zayd alone narrated it as a stopped report. The two Shaykhs did not include Kathir ibn Zayd's narrations, not due to any defect in him, but because he had few narrations.
Urdu Translation
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کسی مسلمان کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔“سالم کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کبھی کسی چیز پر لعنت کرتے ہوئے نہیں سنا۔اس حدیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے کثیر بن زید کے واسطے سے مسنداً بیان کیا ہے، پھر صرف حماد بن زید نے اسے ان سے موقوفاً روایت کیا ہے، رہا شیخین کا معاملہ تو انہوں نے کثیر بن زید سے روایت نہیں لی، وہ مدینہ کے ایک بزرگ ہیں اور ان کی کنیت ابو محمد ہے، میں نہیں جانتا کہ ان کی روایت پر کوئی جرح کی گئی ہو، انہوں نے اسے صرف ان کی احادیث کی قلت کی وجہ سے چھوڑا ہے، واللہ اعلم۔ اس حدیث کے مختلف الفاظ کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ، ابودرداء اور سمرہ بن جندب سے شواہد موجود ہیں جن کے ذریعے یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہو جاتی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 147]
