Arabic (Original)
حدثني أبو الحسن علي بن العباس الإسكندراني العَدل بمكة، حدثنا أبو جعفر أحمد بن محمد بن عبد الواحد الحِمْصي، حدثنا أبو الحسن كَثير بن عُبيد ابن نُمير المَذْحِجي، حدثنا محمد بن خالد الوَهبي، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"إذا كانت مَنِيَّةُ أحدِكم بأرضٍ، أُتيحَ له الحاجةُ فيقصدُ إليها، فيكون أقصى أثره منه فيُقبَضُ فيها، فتقول الأرضُ يومَ القيامة: ربِّ هذا ما استَودَعتني"(1). وقد أسنده هُشَيم عن إسماعيل بن أبي خالد:
English Translation
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Jibril came to me and gave me the glad tidings that whoever from my Ummah dies not associating anything with Allah will enter Paradise." I said: "Even if he commits adultery and steals?" He said: "Even if he commits adultery and steals."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب تم میں سے کسی کی موت کسی سرزمین پر مقدر ہو، تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت مہیا کر دی جاتی ہے اور وہ اس کا قصد کرتا ہے، پھر جب وہ وہاں اپنے آخری نشانِ قدم تک پہنچتا ہے تو وہیں اس کی روح قبض کر لی جاتی ہے، پھر قیامت کے دن وہ زمین عرض کرتی ہے: اے میرے رب! یہ وہ امانت ہے جو تو نے میرے پاس رکھی تھی۔“اسے ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے مسنداً روایت کیا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 124]
