Arabic (Original)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان المُرَادي وبَحْر بن نصر بن سابق الخَوْلاني؛ قال الربيع: حدثنا، وقال بحر: أخبرنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني هشام بن سعد، عن زيد بن أَسلَم، عن عطاء بن يَسَار: أنَّ أبا سعيد الخُدْري دخل على رسول الله ﷺ وهو موعوكٌ عليه قَطِيفة، فَوَضَعَ يدَه عليها فوَجَدَ حرارتَها فوق القَطِيفة، فقال أبو سعيد: ما أشدَّ حرَّ حُمّاكَ يا رسول الله! فقال رسول الله ﷺ:"إِنَّا كذلك يُشدَّدُ علينا البلاءُ، ويُضاعَفُ لنا الأجرُ" ثم قال: يا رسول الله، مَن أشدُّ الناسِ بلاءً؟ قال:"الأنبياءُ" قال: ثم مَن؟ قال:"العلماءُ" قال: ثمَّ مَن؟ قال:"ثمَّ الصالحون، كان أحدُهم يُبتَلى بالفقر حتى ما يَجِدُ إِلَّا العَبَاءةَ يَلبَسُها، ويُبتَلى بالقَمْل حتى يقتلَه، ولَأَحدُهم كان أشدَّ فرحًا بالبلاءِ من أحدِكم بالعطاء"(1). حدثنا أبو العباس عن بحر في"المسند"، وعن الرَّبيع في"الفوائد"، وأنا جمعتُ بينهما.هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بهشام بن سعد، ثم له شواهد كثيرة، ولحديث عاصم بن بَهْدلة عن مصعب بن سعد عن أبيه طرق تُتبع ويُذاكَر بها، وقد تابع العلاءُ بن المسيَّب عاصمَ بن بَهْدَلة على روايته عن مصعب بن سعد:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 119 - على شرط مسلم وله شواهد كثيرة
English Translation
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever is pleased with Allah as Lord, with Islam as religion, and with Muhammad as Prophet and Messenger, Paradise is guaranteed for him."
Urdu Translation
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپصلی اللہ علیہ وسلمبخار کی شدت میں مبتلا تھے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمپر ایک چادر تھی، انہوں نے اپنا ہاتھ اس چادر پر رکھا تو انہیں چادر کے اوپر سے ہی تپش محسوس ہوئی، تو ابوسعید نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا بخار کتنا شدید ہے! تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:«إِنَّا كذلك يُشدَّدُ علينا البلاءُ، ويُضاعَفُ لنا الأجرُ»”ہمارا (انبیاء کا) معاملہ ایسا ہی ہے کہ ہم پر آزمائش سخت کی جاتی ہے اور ہمارا اجر بھی دوگنا کر دیا جاتا ہے“، پھر انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن پر ہوتی ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:«الأنبياءُ»”انبیاء پر“، انہوں نے پوچھا: پھر کن پر؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:«العلماءُ»”علماء پر“، پوچھا: پھر کن پر؟ فرمایا:«ثمَّ الصالحون، كان أحدُهم يُبتَلى بالفقر حتى ما يَجِدُ إِلَّا العَبَاءةَ يَلبَسُها، ويُبتَلى بالقَمْل حتى يقتلَه، ولَأَحدُهم كان أشدَّ فرحًا بالبلاءِ من أحدِكم بالعطاء»”پھر صالحین پر؛ ان میں سے کوئی غربت کے ذریعے اس طرح آزمایا جاتا کہ اس کے پاس پہننے کے لیے ایک چادر کے سوا کچھ نہ ہوتا، اور کسی کو جوؤں کے ذریعے (کثرت کی بنا پر) آزمایا جاتا یہاں تک کہ وہ اسے ہلاک کر دیتیں، اور ان میں سے ایک شخص اپنی آزمائش پر اس سے زیادہ خوش ہوتا تھا جتنا تم میں سے کوئی اللہ کی عطا پر خوش ہوتا ہے۔“یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے ہشام بن سعد سے احتجاج کیا ہے، پھر اس کے بہت سے شواہد بھی موجود ہیں، اور«عاصم بن بهدله عن مصعب بن سعد عن ابيه»کی حدیث کے بہت سے طرق ہیں جن کا تذکرہ مذاکرہ علم میں ہوتا ہے، اور علاء بن مسیب نے عاصم بن بہدلہ کی متابعت کی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 120]
