Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلاَةِ " . قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حَلَقًا فَقَالَ " مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ " . قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ " أَلاَ تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ " يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ " .
English Translation
Hadrat Abu Bakr ibn Abi Shaibah and Abu Kuraib narrated to us, both said: Abu Hadrat Mu'awiyah narrated to us, from al-A'mash, from al-Musayyab ibn Rafi', from Tamim ibn Tarafah, from Hadrat Jabir ibn Samurah (may Allah be well pleased with him), who said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came out to us and said: 'What is it that I see you raising your hands (during salutation in prayer) as though they were the tails of headstrong horses? Be calm in prayer.' He (the narrator) said: Then he came out to us (on another occasion) and saw us sitting in circles, so he said: 'What is it that I see you in separate groups?' He (the narrator) said: Then he came out to us (on yet another occasion) and said: 'Why do you not form rows as the angels form rows in the presence of their Lord?' We submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), how do the angels form rows in the presence of their Lord? He said: 'They complete the first rows and stand close together in the row.'
Urdu Translation
ہم سے حضرت ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، دونوں نے کہا: ہم سے ابو حضرت معاویہ نے بیان کیا، اعمش سے، انہوں نے مسیب بن رافع سے، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ''کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز میں اپنے ہاتھ اس طرح اٹھاتے دیکھ رہا ہوں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ نماز میں پرسکون رہو۔'' فرمایا: پھر آپ (ایک اور موقع پر) ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں حلقوں میں بیٹھے دیکھا تو فرمایا: ''کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں الگ الگ ٹولیوں میں (بٹا ہوا) دیکھ رہا ہوں؟'' فرمایا: پھر (ایک اور موقع پر) تشریف لائے تو فرمایا: ''تم اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کی بارگاہ میں صف بستہ ہوتے ہیں؟'' ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! فرشتے اپنے رب کی بارگاہ میں کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ''وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔''
